اسلام آباد: حکومت اور چینی مل مالکان کے درمیان قیمتوں کے تعین پر تنازع برقرار ہے کیونکہ شوگر ملرز نے چینی کے نرخ کم کرنے سے انکار کر دیا ہے،فریقین قیمتوں پر اتفاق نہیں کر سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ چینی 140 روپے فی کلو فروخت کی جائے لیکن شوگر ملرز نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ مزید برآں عیدالفطر سے قبل چینی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شوگر مل مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے قیمتیں کم کرنے کے لیے مداخلت کی تو وہ مارکیٹ میں چینی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔
ملرز کا مؤقف ہے کہ حکومت نے خود چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، اس لیے پیدا ہونے والی کمی پر شکایت نہیں کرنی چاہیے۔
اس وقت چینی کی قیمت ریٹیل مارکیٹ میں 170 سے 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے اور حکومتی اقدامات کے باوجود قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔
پاکستانی حکومت نے شوگر ملرز کو چینی برآمد کرنے کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ قیمتوں میں استحکام رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 14 مارچ کو چینی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔
یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران دی گئیں جس میں چینی کی طلب، سپلائی اور قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے حکام کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری کارروائی کر کے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








