ڈی جی خان کے ضلع میں واقع سلیمان پہاڑی سلسلے میں نایاب ایشیائی جنگلی بلی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ نایاب بلی جسے بھارتی صحرائی بلی بھی کہا جاتا ہے، افریقی جنگلی بلی کی ایک ذیلی قسم ہے اور اس کا قدرتی مسکن بحیرہ کیسپیئن کے مشرقی علاقوں سے لے کر قازقستان، مغربی بھارت، مغربی چین اور جنوبی منگولیا تک پھیلا ہوا ہے ۔
اس کی آبادی کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں اور ماہرین کے مطابق اس کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

لیگھاری قبیلے کے سربراہ، محمد جمال خان لیگھاری نے اس نایاب بلی کی موجودگی کی تصدیق کی اور اس کے ذاتی طور پر لی گئی تصاویر بھی جاری کیں۔
انہوں نے بلی کے درست مقام کو خفیہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے غیر قانونی شکار، قدرتی مسکن کی تباہی اور غیر قانونی تجارت جیسے خطرات سے بچایا جا سکے۔
ماہرین جنگلی حیات اور محققین نے اس دریافت کو پاکستان کی جاندار تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ محتاط تحفظاتی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
اس سے قبل بلوچستان میں بھی جنگلی حیات سے متعلق ایک بڑی دریافت ہوئی تھی، جہاں چلتن پہاڑی سلسلے کے قریب ہزار گنجی نیشنل پارک میں نایاب فارسی چیتے کی جوڑی کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔

بلوچستان وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو چھ ماہ قبل ان چیتوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعد محکمے نے ایک تفصیلی تحقیق کا آغاز کیا۔
بالآخر ماہرین نے چلتن پہاڑوں کے دشوار گزار علاقوں میں ان چیتوں کو کامیابی سے تلاش کیا اور ان کی تصاویر حاصل کیں۔
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف، شریف الدین بلوچ کے مطابق یہ دریافت اس خطے میں جاری تحفظاتی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








