مری: پولیس نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہ کریں اور انہیں گھر، دکانیں، ہوٹل وغیرہ کرایے پر نہ دیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے مری میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو جائیداد کرایہ پر دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ مری سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے انخلاء کا عمل جلد شروع ہوگا۔
ایک ترجمان نے کہا کہ شہریوں کو افغان مہاجرین کے ساتھ کوئی کاروبار یا لین دین نہیں کرنا چاہیے اور مری میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی فوری طور پر پولیس کو اطلاع دینی چاہیے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں خراب سیکورٹی صورتحال اور افغان شہریوں کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے افغان شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ کل 50 مزید افغان شہریوں کو فیصل آباد کے ایک پناہ گاہ میں منتقل کیا گیاجبکہ 142 افغان شہریوں کو طورخم بھیجا گیا۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ افغان شہریوں کی رضا کارانہ واپسی کی آخری تاریخ 31 مارچ کو ختم ہو گئی تھی اور 1 اپریل سے ان کی تلاش اور انہیں افغانستان بھیجنے کے لیے کوششیں شروع کی جانا تھیں۔
عید کی تعطیلات کی وجہ سے اس عمل میں تاخیر ہوئی اور اب حکام نے اعلان کیا ہے کہ مزید افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جائے گا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ 2013 سے اب تک 450000 سے زائد افغان شہریوں کو طورخم کے راستے اپنے وطن بھیجا جا چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








