کراچی: تعلیم کو طلبہ کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے ایک اہم اقدام کے تحت حکومتِ سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں “سندھ بُک بینک انیشی ایٹو” کا آغاز کر دیا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد طلبہ کو اپنی استعمال شدہ کتابیں عطیہ کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ طالبعلم جو نئی کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اُنہیں تعلیمی مواد بآسانی مہیا کیا جا سکے۔
مہنگائی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بہت سے والدین کے لیے بچوں کو معیاری تعلیم دینا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ سندھ نے ضرورت مند طلبہ کے لیے اسکولوں میں بُک بینک قائم کیے ہیں۔
طلبہ کو اپنی استعمال شدہ نصابی کتب عطیہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جو مخصوص اسکولوں میں قائم بُک بینک مراکز میں جمع کی جائیں گی۔ بعدازاں یہی کتب ان طلبہ کو دی جائیں گی جنہیں پڑھائی کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ اس عمل سے باہمی تعاون اور وسائل کے مؤثر استعمال کا رجحان فروغ پائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومتِ سندھ نصابی کتب کی مفت تقسیم جاری رکھے گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں پرائمری جماعتوں کی کتابیں فراہم کی جائیں گی، جب کہ ثانوی سطح کی کتابیں دوسرے مرحلے میں تقسیم ہوں گی۔
سندھ بُک بینک انیشی ایٹو نہ صرف والدین پر مالی دباؤ کم کرے گا بلکہ تعلیمی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو بھی فروغ دے گا۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا حکومت نے بھی ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو مفت اسکول بیگز اور نصابی کتب فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس تعلیمی اقدام کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں والدین اور اساتذہ پر مشتمل کونسلز کے سالانہ بجٹ کو 5 ارب سے بڑھا کر 7 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ اسکولوں کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ان اقدامات کا مقصد والدین پر مالی بوجھ کو کم کرنا اور اسکولوں میں داخلے کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








