بھارت کے معروف فلمساز و ہدایت کار انوراگ کشیپ کو قتل کرنے اور ان کے اہلخانہ کو جنسی زیادتی کی دھمکیاں ملنے لگیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلم ساز انوراگ کشیپ کو برہمنوں کی توہین کرنے پر نہ صرف قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ قتل کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔
فلمساز نے اپنے متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ ” میں برہمنوں پر موتوں گا، کوئی مسئلہ ؟ جس پر ہندو تنظیموں سمیت وزراء نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔
برہمنوں کے خلاف توہین آمیز بیان پر مرکزی وزیر ستیش چندر نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کئی تنظیموں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
انو راگ کشیپ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے برہمن برادری کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا ہے۔
شکایت اشوتوش جے دوبے نے دائر کی، جو بی جے پی مہاراشٹرا کے سوشل میڈیا لیگل اینڈ ایڈوائزری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔
انوراگ کشیپ نے اپنے بیان وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
بھارتی فلمساز و ہدایت کار انو راگ کشیپ نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میرے اہلخانہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








