سرگودھا: مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی کو موٹروے پر ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اسٹنٹ کرنے پر شدید تنقید اور قانونی کارروائی کا سامنا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔
اس ویڈیو میں ڈکی بھائی کو 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنے پاؤں سے اسٹیئرنگ سنبھالے ہوئے اور آنکھیں بند کیے نیند کا ڈرامہ کر رہے تھے۔ اس حرکت پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور حکام نے نوٹس لیا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے اس خطرناک ڈرائیونگ پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 279 کے تحت سرگودھا کے لکسیاں تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی ہے جو عوامی سڑکوں پر لاپرواہ ڈرائیونگ یا سواری سے متعلق ہے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق اس قسم کی ڈرائیونگ انتہائی خطرناک ہے اور عوام کی جان و مال کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

موٹروے پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جان لیوا اسٹنٹس سے گریز کریں اور واضح کیا کہ اس طرح کے واقعات میں قانون کی بلاامتیاز عملداری یقینی بنائی جائے گی۔
قبل ازیں ایک اور تنازع میں ڈکی بھائی کو سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری کے تبصرے پر جواب دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بشریٰ انصاری نے انسٹاگرام پر ایک مختصر وائرل ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ خاموشی سے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھی نظر آ رہی تھیں جبکہ پس منظر میں جگجیت سنگھ کی آواز میں یہ مصرعہ سنا جا سکتا ہے: “خاموشی خود اپنی صدا ہو” جو ایک گہرے پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب ایک میزبان نے ڈکی بھائی سے پوچھا کہ وہ تنقید پر کیسا ردعمل دیتے ہیں، خاص طور پر بشریٰ انصاری کی جانب سے یوٹیوبرز کے مواد پر حالیہ تبصرے پر۔ میزبان نے ایک پوڈکاسٹ کا آڈیو کلپ سنوایاجس میں بشریٰ انصاری نے بعض وی لاگرز کے مواد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر معیاری قرار دیا۔
ڈکی بھائی نے آڈیو سننے کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ اس اداکارہ کو نہیں جانتے، صرف چہرے سے پہچانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ انصاری احساسِ کمتری کا شکار ہیں اور یوٹیوبرز پر تنقید کرنے کی بجائے خود کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








