انتہاپسند یہودیوں نے اسرائیل کے علاقے رعنانا میں اصلاح پسند یہودی عبادت گاہ اسرائیلی فلسطینی مشترکہ یادگاری تقریب پر حملہ کیا جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔
دائیں بازو کی جماعت کے درجنوں حملہ آوروں نے اصلاح پسند یہودی عبات گاہ کے باہر توڑ پھوڑ کی، آگ لگائی اور اندر گھس کر شرکاء کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہودی عبادت گاہ میں اسرائیلی-فلسطینی مشترکہ یادگاری تقریب کی ویڈیو اسکریننگ جاری تھی جس کا مقصد اسرائیل عرب کمیونیٹی کے درمیان امن اور مفاہمت کو فروغ دینا تھا۔
حملہ آوروں نے اسرائیلی پرچم اُٹھائے ہوئے تھے اور شرکاء کو دھمکا رہے تھے کہ “غزہ چلے جاؤ” اور “تمام عرب طوائفیں ہیں”۔
دائیں بازو کے کارکنوں نے ایک اصلاحی عبادت گاہ کے باہر ہنگامہ آرائی کی جو اسرائیل کے یوم یادگار کے موقع پر اسرائیلی-فلسطینی مشترکہ تقریب کی اسکریننگ کر رہا تھا ۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق حملے میں پولیس افسران سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ پولیس نےجائے وقوعہ پر تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اسرائیل کی اصلاحی تحریک کے سابق سربراہ ربی گیلاد کیریو جو اب اسرائیلی بائیں بازو کی جماعت کے لیے قانون ساز کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے فسادات کو “قتل کی کوشش” قرار دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








