اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی فوری ہدایات پر بھارت سے بغیر علاج واپس بھیجے گئے پاکستانی بچوں کو راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کر لیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
یہ بچے ہوائی اڈے سے براہِ راست اے ایف آئی سی اسپتال منتقل کیے گئے۔وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے بیمار بچوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے کہ انہیں ضروری علاج فراہم کیا جائے گا۔
حکومت کے اس فوری اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں، بالخصوص کمزور طبقے کی صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
اے ایف آئی سی کے ڈاکٹرز تمام مریض بچوں کی حالت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور علاج جاری ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا جس میں دو پاکستانی بچوں کو بھارت سے علاج کے بغیر واپس بھیج دیا گیا تھا۔
ان بچوں کا تعلق سندھ کے شہر حیدرآباد سے ہے، جن میں 9 سالہ عبداللہ اور 7 سالہ منسا شامل ہیں۔ دونوں بچے پیدائشی دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور اپنے والد شاہد علی کے ہمراہ اہم علاج کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی گئے تھے، جہاں انہیں ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔
پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں بھارت نے نہ صرف ان کے ویزے منسوخ کر دیے بلکہ انہیں علاج کے بغیر واپس بھیج دیا۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے اور ویزے منسوخ کر دیے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








