رفح میں مارو یا مر جاؤ کا معرکہ سج گیا، قسام بریگیڈ شجاعت کی داستان رقم کرنے میں مصروف

تازہ ترین

تازہ ترین

تل السلطان کا یہ معرکہ تاریخ میں یادگار رہے گا، فوٹو الجزیرہ

جنوبی غزہ کے مکمل تباہ علاقے میں اسرائیلی فوج پر قسامی مجاہد نے تباہ کن فدائی حملہ کرکے متعدد اسرائیلی فوجیوں کے پرخچے اڑا دیے۔
عبرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس کارروائی میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، کارروائی ہفتے کی شام گئے تک جاری تھی، جبکہ اسرائیلی حکام نے دو کارندوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ اسرائیلی ویب سائٹ حدوشوت بتخون کا کہنا ہے کہ اس وقت 3 ہیلی کاپٹر زخمی فوجیوں کو لے کر سوروکا اسپتال پہنچے ہیں۔

قسام کے حملے کے بعد تل السلطان نامی اس مکمل تباہ شدہ علاقے میں شدید بمباری، اندھادھند شیلنگ اور دھویں والے بم پھینکے جا رہے ہیں تاکہ اس کی آڑ میں اسرائیلی فوجیوں کو نکالا جا سکے اور مزید فوجیوں کے اغوا کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ تمام مزاحمتی تنظیمیں غزہ پر دشمن کی طرف سے برسائے جانے والے ٹنوں دھماکہ خیز مواد کے درمیان زبردست معرکہ لڑ رہی ہیں۔ پتھروں کے ملبے، دھول، درختوں اور ہر طرف سے مجاہد نکل کر یا تو کسی ٹینک کو تباہ کر رہے ہیں، یا کسی فوجی کو نشانہ بنا رہے ہیں، یا کسی صہیونی پیدل دستے کو روند رہے ہیں۔ میدانِ جنگ میں بے مثال دلیری دکھائی جا رہی ہے۔
رفح میں ہونے والے اس سیکورٹی واقعے کے بعد صہیونی میڈیا اطلاع دے رہا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر کو “بلینسن اسپتال” میں اتارا گیا ہے۔
واضح رہے کہ “ہنیبعل سسٹم” (Hannibal Directive یا Hannibal Protocol) اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ عسکری پالیسی ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی اسرائیلی فوجی دشمن کے ہاتھوں اغوا ہونے کا خطرہ ہو یا اغوا کر لیا جائے، تو اس کی بازیابی کی ہر ممکن کوشش کی جائے، چاہے اس کوشش میں وہ فوجی مارا ہی کیوں نہ جائے۔
اس پالیسی کو 1980 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا، کیونکہ اسرائیل کے ہاں فوجیوں کی بازیابی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مزاحمتی قوتیں اکثر اسرائیلی فوجیوں کو قید کرکے ان کے بدلے درجنوں یا سیکڑوں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ جس سے بچنے کیلئے اسرائیل نے یہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔
“ہنیبعل سسٹم” فعال ہونے کا مطلب ہوتا ہے شدید بمباری، توپخانے اور فضائی حملے، چاہے اغوا شدہ فوجی بھی اس حملے میں مارا جائے۔ اس پالیسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض اسرائیلی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پالیسی فوجیوں کی جان کی پروا کیے بغیر استعمال کی جاتی ہے۔

Related Posts