پاکستان نے بھارت کی جانب سے اپنے فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد ملک بھر میں تمام فضائی ٹریفک کے لیے فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 15 منٹ پر نافذ العمل ہوا اور ابتدائی اعلان کے مطابق دوپہر 12 بجے تک مؤثر رہے گا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ اقدام عسکری نوعیت کے خطرات اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے اور اس دوران تمام ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ یا موخر کر دی گئی ہیں۔
اس غیر معمولی اقدام کی وجہ بھارتی افواج کی جانب سے پاکستان کے اہم فضائی اڈوں پر میزائل حملے تھے، جن میں راولپنڈی کے قریب واقع نور خان ایئربیس کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ دیگر متاثرہ اڈوں میں مرید اور شورکوٹ شامل ہیں۔
پاکستانی فوج نے اپنے ردعمل میں فوری کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں پر جوابی حملے کیے، جن کے بارے میں عسکری حکام نے اسے “آنکھ کے بدلے آنکھ” کا اصول قرار دیا ہے۔
ان حملوں میں اُن بھارتی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے پاکستان پر حملے کی ابتدا کی گئی تھی۔
پاکستانی افواج نے فضائی حدود کی بندش کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تمام فضائی، زمینی، اور سمندری دستوں کو مکمل جنگی تیاری میں رکھا گیا ہے۔
وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق دشمن کی کسی بھی قسم کی پیش قدمی یا دوبارہ حملے کی صورت میں بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔
ملک میں جاری ہنگامی صورتحال پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین بھارت کی جنگی مہم جوئی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوجی جوابی کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی طاقتوں نے دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق فضائی حدود کی بحالی یا توسیع کا فیصلہ سیکورٹی صورتحال اور عسکری حکمت عملی کے مطابق کیا جائے گا۔ دوپہر 12 بجے کے قریب نیا اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں آئندہ کی ہدایات دی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








