سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی 2 سال قید کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر اپنے والد سے متعلق بات چیت کی ۔
ایک انٹرویو میں قاسم خان نے عمران خان کی قید تنہائی کے حالات کو تاریک اور سفاکانہ قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ہفتہ وار رابطے کی اجازت دینے کے باوجود وہ اور ان کے بھائی اپنے والد عمران خان سے ہر دو سے تین ماہ میں صرف ایک بار بات کرسکتے ہیں۔
قاسم نے کہا کہ نے انکشاف کیا کہ ان کے والد عمران خان کو مسلسل 10 دن تک مکمل اندھیرے میں رکھا گیا تھا جوکہ غیر انسانی عمل تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سابق وزیر اعظم نے ذہنی طور پر ایسے غیر انسانی حالات کا کیسے مقابلہ کیا تو قاسم نے جواب دیا کہ ابتدا میں مشکل رہا تاہم اب بہتر انداز میں مقابلے کے قابل ہیں۔
بیٹوں نے اپنی ذاتی زندگیوں اور عمران خان کی ان اقدار کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ قاسم خان جو اب برطانیہ میں نجی زندگی گزار رہے ہیں، نے واضح کیا کہ ہمارے والد کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ہم سیاست میں آئیں، اور ہمیں ویسے بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
دونوں بھائیوں نے قید تنہائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے والد کی تکلیف بغیر کسی راحت کے دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم نے ان کی رہائی کے لئے قانون سمیت تمام راستے آزما لئے ہیں، لیکن ہمیں ہر راستے سے مایوسی ہوئی ہے، اب وقت آ گیا ہےکہ عملی جدوجہد کی جائے۔
عمران خان کے بیٹوں سے جب سوال کیا گیا کہ وہ اس وقت انٹرویو دینے پر کیوں آمادہ ہوئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خانی کی رہائی کے لئے تمام راستے آزمائے ہیں۔ ہر جگہ سے انہیں مایوسی ہوئی اس لئے انہوں نے انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان پر قاتلانہ حملے کے بعد ان کے بیٹے سلیمان اور قاسم خان بہت فکر مند تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اسپتال پہنچے تو سب سے پہلے اپنے بیٹوں سے بات کی جو انکی حالت کے بارے میں بہت پریشان تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








