موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز (MVNOs) کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا فریم ورک کو آخرکار وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جانچ پڑتال اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی آرا شامل کیے جانے کے بعد اب اس کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے۔
وزارت آئی ٹی کے حکام کے مطابق فریم ورک کا حتمی ورژن مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت اس عمل میں ایک اہم سنگ میل ہے جسے کئی بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد جون 2024 میں ایم وی این او فریم ورک کو حتمی شکل دی تھی۔ نئے مسودے میں ایک اہم ترمیم یہ کی گئی کہ لائسنس فیس کو 50 لاکھ ڈالر سے کم کر کے 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر کر دیا گیا اور لائسنس کی مدت کو 15 سال تک بڑھا دیا گیا، تاکہ ٹیلی کام سیکٹر میں نئے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔ یہ مسودہ فروری 2025 میں وزارت آئی ٹی کو بھجوایا گیا، جس کے بعد اپریل میں وزارت قانون کی جانب سے رائے دی گئی، جو اب فریم ورک میں شامل کر دی گئی ہے۔
ایم وی این اوز خود نیٹ ورک نہیں بناتے بلکہ موجودہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز (MNOs) سے نیٹ ورک خدمات کرائے پر لے کر اپنی برانڈنگ، مارکیٹنگ اور کسٹمر سروس خود سنبھالتے ہیں۔ ان کمپنیوں کو MNOs کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے ہوتے ہیں جن کی منظوری PTA دیتی ہے۔
اگرچہ اس فریم ورک کا مقصد ملک میں موبائل خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا ہے، لیکن مسلسل تاخیر کی وجہ سے اس پر عملی پیش رفت رکی رہی۔
اب فریم ورک کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا، جس سے توقع ہے کہ وہ منظوری دے گی۔ منظوری کے بعد PTA ایم وی این اوز کے لیے درخواستیں قبول کرنا شروع کرے گی، جس کے بعد لائسنسنگ اور ریگولیٹری تقاضوں کی جانچ کا عمل شروع ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائیاں مکمل ہوتے ہی نئے آپریٹرز کو مقامی مارکیٹ میں سروسز شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں 5G سروس کے اعلان کردہ آغاز (جون 2025) کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، کیونکہ ٹیلی نار-یوفون انضمام پر مسابقتی کمیشن کا فیصلہ ابھی تک التوا کا شکار ہے۔
صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایم وی این او فریم ورک اب آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات کا دارومدار باقی رکاوٹوں کے جلد حل اور ٹیلی کام سیکٹر میں مجموعی اصلاحات پر ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








