عالمی منڈی میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی یونین پر 50 فیصد درآمدی ٹیرف کے نفاذ کو مؤخر کرنے کا اعلان ہے۔ انہوں نے پہلے یکم جون سے یہ ٹیرف نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا تاہم اب اس کی نئی ڈیڈ لائن 9 جولائی مقرر کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد فی اونس 3,346 ڈالر پر آ گئی جبکہ امریکی سونے کے فیوچرز 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 3,345.70 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی بات کی جائے تو سپاٹ سلور (چاندی) کی قیمت فی اونس 33.46 ڈالر پر مستحکم رہی، پلاٹینیم کی قیمت میں 0.2 فیصد کمی ہوئی جو 1,093 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں 0.7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 999.90 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز سونے کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا، جب صدر ٹرمپ نے یورپی مصنوعات پر ممکنہ طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور امریکی حدود سے باہر تیار کیے گئے ایپل آئی فونز پر 25 فیصد ٹیکس کے نفاذ پر غور کا اعلان کیا تھا۔ اس بیان کے بعد سرمایہ کاروں نے سونے کو بطور محفوظ سرمایہ کاری اپنایا تھا۔
دوسری جانب ڈالر انڈیکس میں بھی کمی دیکھی گئی، جو کہ تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو جاتا ہے۔
جغرافیائی تناؤ کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں روسی افواج نے یوکرین کے شہروں پر 367 ڈرونز اور میزائلوں کی اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی کی، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
دنیا کے سب سے بڑے سونے سے وابستہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF)، SPDR Gold Trust نے بتایا کہ جمعے کے روز اس کے سونے کے ذخائر 0.15 فیصد کمی کے بعد 922.46 ٹن رہ گئے، جو ایک روز قبل یعنی جمعرات کو 923.89 ٹن تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








