اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلیکس ریلیز ہونے والی برازیلی فلم ’برننگ بیٹرئیل‘ نے دنیا بھر میں ناظرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
یہ فلم اپنے بے باک مناظر، شہوت انگیز کہانی اور بولڈ اسلوب کے باعث نیٹ فلیکس کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل ہو چکی ہے جبکہ کئی صارفین اسے “نیٹ فلیکس کی اب تک کی سب سے زیادہ بے شرم فلم” قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فلم برازیلی مصنفہ سو ہیکر کے متنازعہ ناول پر مبنی ہے اور ریلیز ہوتے ہی ٹاپ ٹرینڈنگ لسٹ میں شامل ہو گئی۔سوشل میڈیا پر ناظرین کے تبصرے خاصے چونکا دینے والے ہیں۔ ایک صارف نے کہا:80 فیصد فلم صرف جسمانی مناظر پر مشتمل ہے۔
ایک اور ناظر کا کہنا تھا”ہر لمحہ کوئی کپڑوں کے بغیر ہوتا ہے، نہ کوئی کہانی ہے، نہ کوئی مقصد، بس جسمانی تعلقات ہی سب کچھ ہے۔
فلم کا مرکزی کردار بابی (اداکارہ جیوانا لینسیلوٹی) ایک ایسی عورت ہے جو اپنی شادی کی تیاری کر رہی ہوتی ہے مگر جب اسے اپنے منگیتر کی بے وفائی کا پتہ چلتا ہے تو اس کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔
صدمے کے بجائے وہ خود کو آزاد کرنے کی راہ پر نکلتی ہے، اپنی سابقہ روایتی زندگی ترک کر دیتی ہے اور جلد ہی ایک پرکشش جج مارکو کے ساتھ جذباتی تعلق میں بندھ جاتی ہے۔
فلم میں سمندر کنارے، کچن کاؤنٹرز، اور دیگر غیر روایتی جگہوں پر مرکزی کرداروں کے درمیان بے باک مناظر دکھائے گئے ہیں جنہوں نے کئی ناظرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
فلم کے زیادہ تر مناظر میں اداکار نیم برہنہ یا مکمل برہنہ حالت میں دکھائی دیتے ہیں، جس پر ناقدین نے اسے ’پورنوگرافی سے قریب تر‘ قرار دیا ہے۔
جہاں کچھ ناظرین اداکاروں کی کشش کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں کئی اسے کہانی کے لحاظ سے کمزور اور صرف جسم فروشی پر مبنی مواد قرار دے رہے ہیں۔
اس کے باوجود، ’برننگ بیٹرئیل‘ نے نیٹ فلیکس پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اس طرح کی فلمیں محض تفریح ہیں یا اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر اخلاقی حدود کو پار کر رہی ہیں؟
فلم کے چرچے نے بہت سے ناظرین کو اتنا پریشان کر دیا کہ وہ دیکھنے کے بعد اپنی واچ ہسٹری ڈیلیٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








