کراچی میں آج میں بھی شدید گرمی، شمالی علاقوں میں موسلادھار بارش و طوفان کا خطرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

WEATHER
FILE PHOTO

کراچی میں آج 29 مئی سے شدید گرمی کی نئی لہر شروع ہو رہی ہے جس میں نمی میں نمایاں کمی کے ساتھ درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں جنوب مغربی سمندری ہوائیں وقتی طور پر معطل ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے خشک اور گرم شمال مغربی ہوائیں شہر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی لہر پیر تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

خشک گرمی کی یہ صورت حال خاص طور پر سانس، دمہ، الرجی اور جلدی امراض میں مبتلا افراد کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بلا ضرورت دھوپ میں نہ نکلیں، خاص طور پر دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو جسم اور سر کو ڈھانپ کر رکھیں، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور زیادہ سے زیادہ پانی یا مشروبات کا استعمال کریں۔

محکمہ صحت کی جانب سے بزرگوں، بچوں اور کمزور افراد کو سخت احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی طبی پیچیدگی کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال یا معالج سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے شمالی و بالائی علاقوں، بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا کے پہاڑی اور وسطی حصوں اور بالائی پنجاب میں آج جمعرات سے ہفتہ تک شدید موسمی تغیر کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس دوران مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش، تیز ہوائیں، ژالا باری اور آندھی طوفان کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی، بجلی کی فراہمی میں خلل اور ٹریفک جام جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

شہریوں، سیاحوں اور مقامی انتظامیہ کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طوفانی موسم کے دوران درختوں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور ڈھانچوں کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔

یہ طوفانی نظام مغربی ہواؤں کا سلسلہ ہے، جو بھارت کی شمال مغربی حدود سے پاکستان میں داخل ہو کر آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے ذریعے گلگت بلتستان تک پھیل رہا ہے۔ اس کی شدت کے باعث مقامی سطح پر طوفان، ژالہ باری اور شدید بارش کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ادھر سندھ اور بلوچستان بدستور شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ خاص طور پر دادو، جیکب آباد، سبی، نوکنڈی اور تربت جیسے علاقوں میں درجہ حرارت انسانی برداشت سے باہر ہو سکتا ہے۔

Related Posts