تنخواہ دار طبقے نے ایکسپورٹر اور ریٹیلرز مشترکہ ٹیکس سے 5 گنا زائد ٹیکس ادا کیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بزنس ریکارڈر)

سیلریڈ کلاس الائنس آف پاکستان (S-CAP) کے مطابق مالی سال 2024-25 کے ابتدائی 10 ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 430 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو برآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مشترکہ ٹیکس (100 ارب روپے) سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الائنس کے رکن ناصر حسین طیبانی نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کی مجموعی ٹیکس شراکت 550 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2019 میں صرف 75 ارب روپے تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں ریلیف دیا جائے، ٹیکس سلیبس 2022-23 کی سطح پر لائے جائیں اور ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے ماہانہ کی جائے۔

الائنس نے موجودہ ٹیکس پالیسی کو مہنگائی، برین ڈرین اور معیشت پر منفی اثرات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ کومل علی نے خبردار کیا کہ زیادہ ٹیکس شرحوں سے نہ صرف سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے بلکہ تعلیم یافتہ افراد کی ہجرت میں بھی 119 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ زراعت اور ریٹیل سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ بصورت دیگر، الائنس نے عدالتی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے۔

Related Posts