عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت بٹ کوائن مائننگ اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے شعبے کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کو نہ صرف اس فیصلے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا بلکہ بجلی کے نرخوں (ٹیرف) کے حوالے سے بھی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ قرض پروگرام کے دوران تمام پالیسی فیصلے فنڈ کے ساتھ مشاورت سے کیے جائیں۔
مالیاتی ادارے نے بجلی کی فراہمی اور ٹیرف سے متعلق حکومتی مؤقف جاننے کے لیے ورچوئل مذاکرات کا عندیہ دیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسی تاحال پاکستان میں قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے بجلی مختص کرنے پر باقاعدہ وضاحت دینے کو کہا گیا ہے، کیونکہ اس اقدام سے بجلی کے موجودہ بحران اور عوامی سبسڈی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے اس معاملے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری بجٹ مذاکرات مزید مشکل ہو سکتے ہیں، کیونکہ مالیاتی ادارہ اس اقدام کو قرض پروگرام کی شرائط سے انحراف کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








