بی جے پی رہنما رنبیر پٹھانیا کا بھارتی فضائیہ پر بیان، سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بھارتی میڈیا)

جموں و کشمیر کے اُدھم پور سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا نے حال ہی میں “آپریشن سندور” کے دوران بھارتی فضائیہ پر سوال اٹھا کر سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اُن کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نہ صرف ان کی مذمت کی بلکہ اُن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پٹھانیا نے یہ بیان اُدھم پور ایئر فورس اسٹیشن کے قریب دکانوں اور گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف ایک احتجاج کے دوران دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مبینہ طور پر کہاکہ “آپریشن سندور کے دوران ایئر فورس کے جوان سو رہے تھے، جو کچھ ہوا وہ ان کی نااہلی تھی، ہم قصوروار نہیں ہیں۔”

یہ ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا جس میں پٹھانیا کو بھارتی فضائیہ کی تیاری اور چوکسی پر سوال اٹھاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو افواج پر مکمل بھروسہ ہے، لیکن اس واقعے سے وہ اعتماد متاثر ہوا ہے۔

معاملہ شدت اختیار کرنے پر پٹھانیا نے بدھ کی شب ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ “میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، میں نے کبھی بھارتی افواج کی قربانیوں پر سوال نہیں اٹھایا۔

انہوں نے زور دیا کہ ان کا مقصد صرف عوام کے حق میں آواز اٹھانا تھا، کیونکہ ایئر فورس اسٹیشن کی طرف سے دکانوں اور گھروں کے انہدام کے نوٹس دیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر معاوضے کے زمین کا حصول قانون کے خلاف ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان کو “شرمناک اور ناقابل معافی” قرار دیتے ہوئے پٹھانیا کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ادت راج نے کہا، “بی جے پی کو اگر فوج سے واقعی محبت ہے تو رنبیر پٹھانیا کو پارٹی سے نکالے۔”

سماج وادی پارٹی کے ایم پی پشپندر سروج نے بھی بیان کو “قابل مذمت” قرار دیا، جبکہ کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر جے پی نڈا سے سوال کیا کہ کیا یہ بی جے پی کا سرکاری مؤقف ہے؟

سوشل میڈیا پر بھی پٹھانیا کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں کئی صارفین نے انہیں فضائیہ کی بہادری کا مذاق اُڑانے کا مجرم قرار دیا۔

یہ تنازعہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارت میں فوج اور سلامتی کے معاملات کو نہایت حساس تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے بیانات کو عوامی غصے اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Related Posts