منافع خور آزاد، حکومت لاچار، گھی اور تیل قیمتوں میں 20 روپے فی کلو اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی بجٹ کے اطلاق سے قبل ہی گھی اور خوردنی تیل بنانے والی کمپنیوں نے اپنی مرضی سے قیمتوں میں 10 سے 20 روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے جس سے مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک اور بوجھ آن پڑا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد کمپنیوں نے گھی اور تیل کی قیمتیں بجٹ پاس ہونے سے پہلے ہی بڑھا دی ہیں۔ اب ایک کلو کا پاؤچ 550 روپے کے بجائے 560 اور بعض مقامات پر 570 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری فرید قریشی کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیوں نے نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے قبل ہی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کر دیا ہے حالانکہ بجٹ کا نفاذ ابھی باقی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مؤثر پرائس کنٹرول سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے منافع خور کمپنیاں موقع کا فائدہ اٹھا کر خود ہی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں، جس کا بوجھ براہ راست عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے ہیں، جس کے بعد ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے اثرات دیگر اشیاء پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

Related Posts