عمان نے ایک شاہی فرمان کے تحت 2028 سے ذاتی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر کے خلیج کے ممالک میں یہ منفرد اقدام کیا ہے، اس اقدام کی بنیاد ملک کی معاشی متنوعی اور تیل پر انحصار کم کرنے کی حکمتِ عملی ہے۔
عمان کی ٹیکس اتھارٹی نے بتایا کہ یہ نئے ٹیکس کا قانون ایسے افراد پر لاگو ہوگا جو سالانہ 42,000 عمانی ریال (تقریباً 109,000 امریکی ڈالر) سے زیادہ کماتے ہیں اور اس سے عمان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی متاثر ہوگی ۔
یہ اقدام 2020 میں شروع کیے جانے والے مالیاتی اور اقتصادی استحکام کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوامی قرض کم کرنا، محصول کے ذرائع بڑھانا، اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے ۔
قانون میں سماجی تحفظ کا پہلو بھی شامل کیا گیا ہے؛ اس میں بنیادی ضروریات جیسے تعلیم، صحت، رہائش، زکوٰۃ، وراثت اور عطیات جیسی کٹوتیاں شامل ہیں تاکہ عام شہریوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے ۔
عمان کی معاشی حکمتِ عملی (Vision 2040) کے تحت یہ نیا ٹیکس ایک اہم سنگِ میل مانا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد تیل پر مبنی آمدنی سے ہٹ کر خصوصی طور پر ذاتی آمدن کی ٹیکس کی وصولی ممکن بنانا ہے خاص طور پر ان افراد سے جو سب سے زیادہ کماتے ہیں۔
علاقائی سطح پر یہ بھی امکان ہے کہ عمان کے اس تجربے سے خلیجی دیگر ممالک بھی متاثر ہوں گے، جو آنے والے برسوں میں ایسی اصلاحات پر غور کر سکتے ہیں ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








