شوگر مافیا کو ریلیف؟ حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی سربراہی میں منعقدہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے اعلان میں کہا گیا کہ چینی کی موجودہ قیمتوں میں بے ترتیبی کا بڑا سبب شوگر مل مالکان کے غیر مناسب رویّے ہیں، جنہوں نے اپنی مرضی سے قیمتوں میں اضافہ کیا۔ اس کی روک تھام کے لیے حکومت نے سخت نگرانی اور شفافیت کے انتظامات کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ چند روز میں درآمدی چینی کی تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی جائیں گی اور پھر اسے مارکیٹ میں لایا جائے گا تاکہ صارفین کو فوری ریلیف ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی حکمتِ عملی کا مقصد یہ ہے کہ بازار میں قیمتیں نیچے جائیں اور عام آدمی کی پہنچ میں شوگر واپس آئے۔
بورڈ نے فیصلہ کیا کہ تمام شوگر ملوں اور تجارتی سرگرمیوں پر زیادہ شفاف نگرانی اور مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چینی کی موجودہ قلت اور قیمتوں میں بے قابو اضافہ قوم کے عزائم کے خلاف ہے، اور اس صورتحال کا فوری طور پر سدباب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

Related Posts