معروف پاکستانی مذہبی اسکالر مفتی طارق مسعود کے بھارتی اداکارہ شیفالی جریوالا کی اچانک وفات پر دیے گئے بیان نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔
مفتی طارق مسعود نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں شہرت پانے والی اداکارہ کچھ ہی لمحوں میں خالی زمین میں دفن ہو گئیں، چونکہ وہ ہندو تھیں، ان کے جسم کو جلایا گیا، جس سے انسان کی حقیقت سامنے آتی ہے اور خاص طور پر ہندوؤں کو اس واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
مفتی صاحب نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس افسوسناک واقعے سے سیکھنے کے بجائے لوگ متوفیہ کے گیت اور فلمیں چلانے لگے، جو بے مقصد عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فنکار اپنی ظاہری جمالیات پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر موت کے بعد سب ختم ہو جاتا ہے، شہرت راکھ بن جاتی ہے۔ تو لوگ قبر کے ساتھ سیلفی کیوں نہیں بناتے، اور قبر کے ساتھ دفن کیوں ہو جانا چاہتے؟
مفتی طارق مسعود نے یہ بھی کہا کہ غیر مسلموں کی وفات پر مغفرت کے لیے دعا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اور مسلمانوں کو اس سلسلے میں شریعت کے مطابق ردِ عمل دکھانا چاہیے۔
ادھر، اداکارہ کی وفات پر 2 جولائی کو ان کے خاندان اور قریبی دوستوں کی جانب سے دعائیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں ایک دلخراش ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شیفالی کے والد روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے شوہر پراگ تییاگی انہیں تسلی دیتے نظر آتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








