حکومت نے حال ہی میں لگژری اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس سے امپورٹڈ اسپورٹس گاڑیاں، جیپیں، برانڈڈ گھڑیاں، پرفیوم، لگژری باتھ روم فٹنگز، شپس، کروزز اور بوٹس جیسی مہنگی اشیاء اب کم قیمت پر دستیاب ہوں گی جبکہ اس کے برعکس، عام آدمی کی بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا، بلکہ مہنگائی کے طوفان میں اس کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے امپورٹڈ اسپورٹس گاڑیاں اور نئی جیپیں، جن کی ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی گئی ہے۔
لگژری شپس، کروزز اور بوٹس پر ڈیوٹی 90 فیصد سے کم کر کے صرف 5 فیصد کر دی گئی ہے، جو ایک بہت بڑا ریلیف ہے اشرافیہ کے لیے جبکہ برانڈڈ سن گلاسز اور گھڑیاں، جن کی ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کر کے 24 فیصد کی گئی ہے۔
شہباز شریف حکومت نے امپورٹڈ پرفیوم کی ڈیوٹی بھی 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کی گئی ہے۔لگژری باتھ روم فٹنگز جیسے باتھ ٹب، باتھ واشنگ ٹینک اور واش بیسن کی ڈیوٹی میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔
امپورٹڈ آرٹیفیشل جیولری پر ڈیوٹی 40 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے۔امپورٹڈ منی وینز اور 1000 سی سی سے 1300 سی سی تک کی گاڑیوں کی ڈیوٹی بھی 15 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی گئی ہے۔
یہ واضح ہے کہ حکومت نے اپنی ترجیحات میں امیروں اور اشرافیہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنا مقدم رکھا ہے۔ لگژری گاڑیاں، شپس، مہنگے گھڑیاں اور پرفیوم جیسی اشیاء اب نسبتاً سستی ہوں گی، جس سے ملک کا امیر طبقہ اپنی عیش و آرام کی زندگی آسانی سے جاری رکھ سکے گا۔
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں عام شہریوں کی بنیادی ضروریات جیسے کہ خوراک، ادویات اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جن پر حکومت نے اب تک کوئی قابل ذکر کمی نہیں کی۔
یہ معاشی پالیسیاں طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ جہاں امیر طبقہ لگژری اشیاء کی خریداری میں سہولت حاصل کر رہا ہے، وہیں عام آدمی مہنگائی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس کا بوجھ صرف وہی برداشت کر رہے ہیں۔
اگرچہ حکومت نے لگژری اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی کرکے اشرافیہ کو ریلیف دیا ہے، لیکن یہ اقدام عام آدمی کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ امیروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
موجودہ اقتصادی صورتحال میں ایسے فیصلے عوامی اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور سوالات کو جنم دیتے ہیں کہ آیا حکومت واقعی اپنے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سنجیدہ ہے یا صرف چند مخصوص طبقات کی خوشنودی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








