پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر ’مخصوص افراد‘ کو بھارت کے حوالے کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اس کے لیے نئی دہلی کو اس عمل میں تعاون پر آمادگی ظاہر کرے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بطور خیرسگالی سربراہ لشکرِ طیبہ حافظ سعید اور جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کرنا ممکن ہے، تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات ہوں، جس میں دہشت گردی کے مسئلہ پر بات ہو، تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو ان معاملات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ان افراد کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے الزامات کے تحت ملک میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے سرحد پار دہشتگردی پر ان افراد کیخلاف مقدمات چلانا مشکل ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت ان افراد کو سزا دلوانے کے لیے ضروری بنیادی تقاضوں پر عمل نہیں کر رہا، انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں شواہد پیش کرنا، بھارت سے گواہوں کا پاکستان آنا، یہ سب ضروری ہے، اگر بھارت اس عمل میں تعاون پر آمادہ ہو تو مجھے یقین ہے کہ ایسے کسی بھی فرد کی حوالگی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
بلاول نے بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے عزم کو نیا بیانیہ قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت جو نیا بیانیہ اس خطے پر مسلط کرنا چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ بھارت میں کسی بھی دہشت گرد حملے کا مطلب پاکستان کے ساتھ جنگ ہے، یہ نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ بھارت کے مفاد میں۔
سابق وزیر خارجہ سے جب حافظ سعید اور مسعود اظہر کے موجودہ مقام کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حافظ سعید ریاست پاکستان کی تحویل میں ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان کو یقین ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں ہیں، یہ بات حقائق کے منافی ہے کہ حافظ سعید آزاد شہری ہیں، وہ پاکستانی ریاست کی حراست میں ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مسعود اظہر کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں، جب بھی بھارتی حکومت یہ معلومات فراہم کرے گی کہ مسعود اظہر پاکستانی سرزمین پر موجود ہیں، تو ہم انہیں گرفتار کرنے میں خوشی محسوس کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت اب ان افراد کا ذکر نہیں کر رہی اور نہ ہی ان افراد کا جنہوں نے اس دہشت گرد حملے میں کردار ادا کیا جس کی بنیاد پر یہ جنگ شروع کی گئی۔
بلاول بھٹو کے انٹرویو کے یہ کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین ان پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت یہ انٹرویو سن کر حیران ہے کہ کل تک مودی سرکار کی شدید مخالفت میں آگے آگے رہنے والے بلاول آج اچانک کیسے مودی سرکار کی بولی بولنے لگ گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








