آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ نے بہار میں اسمبلی انتخابات سے پہلے شروع ہونے والی خصوصی تیز نظرِ ثانی (SIR) پر شدید اعتراض کیا ہے۔
بھارتی سیاستدان اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ یہ عمل شہریوں کے حقوق پر حملہ ہے اور اگر جلد بازی کی گئی تو ہزاروں افراد اپنی شہریت، روزگار اور فلاحی اسکیموں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
SIR کیا ہے؟
خصوصی تیز نظرِ ثانی (SIR) ایک انتخابی عمل ہے جس کے ذریعے ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہےم جس میں شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال، غلط یا دوہری اندراجات کو درست کرنا، غیر مجاز افراد کو لسٹ سے نکالنا شامل ہے۔
یہ عمل 25 جون سے 30 ستمبر 2025 تک جاری رہےگا، جس میں تقریباً 3 کروڑ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
اس کے تحت، ہر شہری کو اپنی پیدائش کی تاریخ اور مقام کے ساتھ ساتھ، 1987 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے والدین کی معلومات بھی فراہم کرنی ہوںگی۔ اس کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور شفاف بنانا ہے ۔
اویسی نے کہا کہ اگر غیر قانونی تارکین وطن تھے تو انہیں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دینے کی اجازت کیوں دی گئی؟ اگر وہ غیر قانونی تھے تو کیسے ووٹ دیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ 1971 کی جنگ کے بعد بھارت نے ان افراد کو یہاں رہنے کی اجازت دی تھی، تو وہ اچانک کیسے غیر قانونی ہو گئے؟
اویسی نے کہا کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ سے نکالنا صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ غریب اور محنت کش افراد کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس شناختی دستاویزات نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مزدور بہار واپس آئے ہیں لیکن ان کے پاس اب کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔ اگر کسی کا نام لسٹ سے نکال دیا جائے تو وہ نہ صرف ووٹ کا حق کھو دیں گے بلکہ وہ راشن، وظائف اور دیگر فوائد سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
اویسی نے مطالبہ کیا ہے کہ SIR پر جلد بازی نہ کی جائے اور اس پر مزید وقت دیا جائے تاکہ دستاویزات کی کمی کی بنا پر لوگ نقصان نہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کر کے ایک اجلاس بلایا جائے تاکہ عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔
واضح رہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں، اور 10 جولائی کو سماعت متوقع ہے ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








