حکومتی نا اہلی یا تکنیکی مسائل؟ 2010 میں خریدا گیا ارلی وارننگ سسٹم تاحال غیر فعال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوات میں 15 سال قبل خریدا گیا ارلی وارننگ سسٹم آج تک نصب نہ ہو سکا، جس سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

نجی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، صوبائی انسپکشن ٹیم کے سیکرٹری نے محکمہ آبپاشی کے سیکرٹری کو خط لکھ کر اس معاملے پر وضاحت طلب کی۔

خط میں انکشاف کیا گیا کہ 2010 میں خریدا گیا یہ جدید نظام اب تک فعال نہیں کیا گیا۔ انسپکشن ٹیم نے سسٹم کی موجودہ حالت اور تنصیب میں تاخیر کی وجوہات جاننے کا مطالبہ کیا۔

محکمہ آبپاشی کے پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سیل نے جوابی خط میں بتایا کہ 2013 میں وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم دور دراز علاقوں میں فوری رابطوں اور ہنگامی مواصلات کے لیے حاصل کیا گیا تھا تاہم تکنیکی مسائل اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسے نصب نہ کیا جا سکا۔

خط کے مطابق، اعلیٰ حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا لیکن سیکیورٹی پروٹوکولز کی وجہ سے تنصیب کی اجازت نہ مل سکی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سسٹم کا سامان اب بھی ایریگیشن ڈویژن سوات میں محفوظ حالت میں موجود ہے۔

محکمہ آبپاشی نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ اسمارٹ فونز کی دستیابی نے وائرلیس مواصلاتی نظام کی ضرورت کو خاصی حد تک کم کر دیا ہے۔یہ بیان سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں اس اہم نظام کی تنصیب کو نظرانداز کیا گیا یا اس کی اہمیت واقعی کم ہوئی ہے؟

یہ صورتحال سوات جیسے حساس علاقے میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے، جہاں ارلی وارننگ سسٹم کی بروقت تنصیب جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 27 جون 2025 کو دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں 18 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔متاثرہ خاندان کا تعلق ڈسکہ سیالکوٹ سے ہے، جس میں 10 افراد ایک ہی خاندان کے تھے۔

Related Posts