عبدالستار ایدھی کی 9ویں برسی؛ خدمتِ انسانیت کا چراغ آج بھی روشن

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کے عظیم سماجی کارکن اور انسانیت کے محسن عبدالستار ایدھی کی نویں برسی منائی جا رہی ہے۔ عبدالستار ایدھی کو “بابائے خدمت” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے اپنی پوری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

عبدالستار ایدھی کی وفات 8 جولائی 2016 کو گردوں کے عارضے کے باعث کراچی میں ہوئی، لیکن ان کی قائم کردہ ایدھی فاونڈیشن آج بھی ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو برطانوی ہندوستان کے صوبہ گجرات کے شہر بانٹوا میں ایک متوسط میمن خاندان میں پیدا ہوئے۔

1947 میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ ابتدائی طور پر عبدالستار نے کاروبار کی کوشش کی لیکن ان کا دل انسانوں کی خدمت میں لگا۔

ایدھی نے اپنی جمع پونجی سے 1951 میں کراچی کے میٹھادر علاقے میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری قائم کی، جو بعد میں ایدھی فاونڈیشن کی شکل اختیار کر گئی۔

عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی کے 65 سال انسانیت کی خدمت میں صرف کیے۔ ان کی قائم کردہ ایدھی فاونڈیشن آج دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس کا نیٹ ورک چلاتی ہے، جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیں شامل ہیں۔

ایدھی فاونڈیشن یتیم خانے، پناہ گاہیں، زچگی مراکز، بلڈ بینک، معذوروں کے لیے گھر، اور مفت تعلیمی اداروں سمیت متعدد خدمات فراہم کرتی ہے۔

ایدھی فاونڈیشن کی ایک منفرد خصوصیت اس کے جھولا پروجیکٹ کا قیام ہے، جس کے تحت ہر ایدھی مرکز کے باہر جھولے رکھے گئے تاکہ غریب والدین اپنے بچوں کو چھوڑ سکیں جن کی وہ دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔

ان بچوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی ہے بلکہ انہیں مفت تعلیم اور تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروجیکٹ نے ہزاروں بچوں کی زندگیاں سنواریں اور بے اولاد جوڑوں کو گود لینے میں مدد کی۔

عبدالستار ایدھی کی خدمات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کی فاونڈیشن نے افغانستان، عراق، چیچنیا، سوڈان، اور ایتھوپیا سمیت کئی ممالک میں قدرتی آفات اور تنازعات کے دوران امدادی کام انجام دیے۔

عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 1986 میں انہیں اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کو فلپائن کا رامون میگسے ایوارڈ ملا۔

1988 میں انہیں آرمینیا کے زلزلے میں امدادی کاموں کے لیے سابقہ سوویت یونین کی جانب سے امن انعام دیا گیا۔

پاکستان میں انہیں 1989 میں نشانِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں “سوشل ورکر آف سب کنٹیننٹ” کا خطاب دیا۔ ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں بھی دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کے لیے شامل ہے۔

ان کے انتقال کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں انہیں نوبل امن انعام دینے کی تحریک چلی، کیونکہ بہت سے لوگوں کا ماننا تھا کہ ان سے زیادہ کوئی اس اعزاز کا مستحق نہیں۔

عبدالستار ایدھی کی زندگی سادگی کا ایک روشن نمونہ تھی۔ وہ ہمیشہ ایک ہی رنگ کی شلوار قمیض اور کھلے جوتوں کا ایک جوڑا پہنتے، جو برسوں تک ان کی واحد ملکیت رہا۔

انہوں نے کبھی اپنی ذات پر فاونڈیشن کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا، ایک بار جب انہیں ذاتی استعمال کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی دولت انسانیت کی خدمت ہے۔

ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے بھی ان کے مشن میں بھرپور ساتھ دیا۔ وہ نہ صرف فاونڈیشن کی سربراہ رہیں بلکہ لاوارث بچوں کی پرورش اور خواتین کی فلاح کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

8 جولائی 2016 کو عبدالستار ایدھی گردوں کی بیماری کے باعث 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کی آنکھیں ضرورت مندوں کو عطیہ کی جائیں، جو ان کی وفات کے فوراً بعد عمل میں آئی۔

ان کی نماز جنازہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی گئی، جہاں صدر مملکت، فوجی سربراہان، اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ایدھی ولیج میں سپرد خاک کیا گیا۔

ان کے بیٹے فیصل ایدھی اور اہلیہ بلقیس ایدھی نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا۔ آج بھی ایدھی فاونڈیشن پاکستان اور دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے، جو عبدالستار ایدھی کی عظیم میراث کی عکاسی کرتی ہے۔

عبدالستار ایدھی کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ ان کا مشن اور ان کی سادگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں، اور خدمت خلق ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔

Related Posts