ملک بھر میں مون سون کا طاقتور اسپیل جاری ہے، مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک بار پھر تیز بارش ہوئی، جبکہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے۔
لاہور میں چھت گرنے کے تین مختلف واقعات پیش آئے جن میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پنجاب کے دیگر شہروں جہانیاں، پتوکی، پھولنگر، شرقپور شریف، ننکانہ صاحب، کمالیہ، ساہیوال، پاکپتن اور چیچہ وطنی میں بارش کے بعد گرمی کا زور ٹوٹ گیا تاہم متعدد مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سندھ میں نوشہرو فیروز، گمبٹ اور دیگر شہروں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ بارش شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس پر کسان طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ شاہراہِ ریشم پر پانی جمع ہونے کے باعث آمد و رفت متاثر ہوئی، جبکہ سیاحتی مقامات نتھیا گلی، ٹھنڈیانی، ڈونگا گلی اور ایوبیہ میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیاحوں کو پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون کا موجودہ اسپیل 10 جولائی تک جاری رہے گا اور اس دوران دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔ دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسمی ایڈوائزری پر عمل کریں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








