تحصیل خار ہیڈ کوارٹر کے قریب مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما مولانا خان زیب پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
دہشتگرد حملے میں مولانا خان زیب کے ہمراہ ان کے 2 ساتھی بھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین دیگر شدید زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے
پولیس حکام نے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، ڈی پی او وقاص رفیق کے مطابق یہ واقعہ امن مارچ کی مہم کے سلسلے میں پیش آیا، انہوں نے اسے ٹاگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔
مولانا خان زیب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی مرکزی علما کونسل کے سربراہ تھے اور سابق ممبر قومی اسمبلی کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔
مولانا خان زیب کا شمار مذہبی رہنماؤں اور امن کے سرگرم کارکنوں میں ہوتا تھا، جنہوں نے مسلسل برادری کے اندر مفاہمت اور تشدد کے خاتمے کی آواز اٹھائی ہے ۔
اے این پی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد واقعے کا پردہ فاش کیا جائے، اور امن مارچ کے رہنماؤں کو موثر سیکورٹی فراہم کی جائے۔
مولانا خانزیب کی شہادت — میاں افتخار حسین کا تین روزہ سوگ کا اعلان pic.twitter.com/49PpZ8O7tx
— Awami National Party (@ANPMarkaz) July 10, 2025
مرکزی ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ واضح طور پر ایک منصوبہ بند سیاسی قتل ہے جس کا مقصد امن کا پیغام دینے والوں کو خاموش کروانا ہے ۔
عوامی نیشنل پارٹی نے پولیس اور وفاقی اداروں سے موثر اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قاتلوں کو جلد سامنے لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








