گورنر سندھ اور وزیرِ ثقافت کا اہم اقدام؛ اداکارہ حمیرا اصغر کی تجہیز و تکفین کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کراچی میں اداکارہ حمیرا اصغر کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے تمام اخراجات اپنے ذاتی خرچ پر ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حمیرا اصغر کی تدفین کے تمام انتظامات گورنر ہاؤس میں کیے جائیں گے، اور اس حوالے سے امام صاحب کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ اگر لواحقین تجہیز و تکفین میں شرکت نہیں چاہتے تو وہ خود اس کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔

انہوں نے اس واقعے کو ہمارے معاشرے کے لیے ایک سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک جوان بیٹی کی لاش دفنانے کے لیے اس کے گھر والے موجود نہیں ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے وزیرِ ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حمیرا کے اہلِ خانہ اس کا جسدِ خاکی وصول کرنے سے گریز کرتے ہیں تو صوبائی حکومت اس کی تدفین کی تمام ذمہ داری اٹھائے گی۔

وزیرِ ثقافت نے اس سلسلے میں کراچی کے ایڈیشنل آئی جی سے رابطہ کیا اور محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل کو اس معاملے کا فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔

انہوں نے ایک سرکاری خط میں واضح کیا کہ حمیرا اصغر کسی کے بغیر وارث نہیں ہیں اور صوبائی حکومت اس کی تدفین کو بطور سرپرست انجام دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا اولین مقصد یہ ہے کہ حمیرا کے والدین کو قائل کیا جائے تاکہ وہ اپنی بیٹی کی تدفین میں شریک ہوں۔

اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو محکمہ ثقافت ان کی تدفین کی تمام ذمہ داری اٹھائے گا۔ اس کے علاوہ، ثقافت کے سیکریٹری نے ڈی آئی جی ایسٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں حمیرا اصغر کا جسدِ خاکی محکمہ ثقافت کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

وزیرِ ثقافت نے اس واقعے کو دل دہلا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان ہے کہ ایک جوان بیٹی کی لاش دفنانے کے لیے اس کے والدین موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں واقع فلیٹ سے اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی لاش کی دریافت نے شوبز انڈسٹری اور عوام کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔

پولیس کے مطابق، حمیرا کی موت اکتوبر 2024 میں ہوئی تھی، اور ان کی لاش تقریباً جولائی 2025 میں برآمد ہوئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ غیر واضح ہے تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس واقعے نے شوبز انڈسٹری کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے، اور فنکاروں نے ذہنی صحت پر بات کرنے کی اپیل کی ہے۔

Related Posts