پاکستان کی کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے حالیہ ٹیکس اصلاحات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے 19 جولائی بروز ہفتہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے رات دیر گئے کیا گیا۔ ہڑتال کا مقصد ان نئے ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا ہے جنہیں کاروباری حلقے کاروبار دشمن اور معیشت کو غیر مستحکم کرنے والے قرار دے رہے ہیں۔
ان اقدامات میں دو لاکھ روپے کی حد پر مبنی متنازعہ قانون، ایف بی آر کو حاصل گرفتاری کے اختیارات، لازمی ڈیجیٹل انوائسنگ، ای بلنگ سسٹم اور دیگر سخت گیر مالیاتی اصلاحات شامل ہیں۔
کراچی چیمبر نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ کاروباری برادری کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور یہ ہڑتال ان پالیسیوں کے خلاف ایک اجتماعی ردعمل ہے جو نہ صرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے وجود کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ قومی معیشت کے استحکام کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
ملک بھر کے تمام بڑے چیمبرز آف کامرس، بشمول لاہور، فیصل آباد، پشاور اور کوئٹہ، نے بھی کراچی چیمبر کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ مختلف صنعتی اور تجارتی ایسوسی ایشنز نے بھی ہڑتال میں مکمل شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس اعلان کا وقت جو غیر معمولی طور پر رات دیر گئے کیا گیا، کئی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حال ہی میں ایک وفاقی وزیر نے کراچی چیمبر کا دورہ کیا تھا مگر مذکورہ ملاقات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی جس کے بعد فوری طور پر احتجاجی لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں پہلے ہی کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے اور اب حالیہ ٹیکس اقدامات نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ان پالیسیوں پر نظرثانی کرے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








