اہل غزہ اس دور کے سب سے بڑے اولیاء ہیں اور اولیاء کی کرامت برحق ہے۔ شہداء اور غازیوں کے غزہ میں کرامات کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ دو روز قبل یعنی 14 جولائی بھی ایک ایسا واقعہ رونما ہوا، جس نے سب کو حیران کردیا۔
اس دن محصور پٹی میں اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے سائے میں، انسانی خدمت کا ایک چراغ گل ہو گیا۔ شمالی غزہ کے معروف فلاحی کارکن جواد موسیٰ مسجد التوبہ میں یتیم بچوں کو ماہانہ وظیفہ تقسیم کرتے ہوئے اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، جواد موسیٰ گزشتہ کئی برسوں سے یتیموں، بیواؤں اور ناداروں کی مدد میں سرگرم تھے اور انہوں نے خاموشی سے فلاحی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔
ان کی تصویر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، ان کے چہرے پر شہادت کے وقت مسکراہٹ لیے آخری لمحات کی عکاسی کر رہی ہے، ایک ایسی مسکراہٹ جو گویا ان کے اطمینان، خلوص، اور رب پر یقین کا اظہار ہو۔
انسانی خدمت کا مجسم پیکر
جواد موسیٰ کو مقامی لوگ خادم الايتام یعنی یتیموں کا خادم کے لقب سے جانتے تھے۔ ان کی سادہ طبیعت، بے لوث خدمت اور خاموش فلاحی سرگرمیاں پورے علاقے میں معروف تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق وہ اس وقت مسجد التوبہ میں یتیم بچوں کو نقد وظیفہ فراہم کر رہے تھے جب اسرائیلی ڈرون نے قریبی علاقے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
سب کچھ خاموشی سے کرتے تھے
ایک مقامی رضاکار نے میڈیا کو بتایا کہ جواد بھائی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنی خدمت کی تشہیر نہیں کرتے تھے۔ نہ تصاویر، نہ سوشل میڈیا پوسٹیں، بس خاموشی سے گھر گھر جا کر یتیموں کی ضروریات پوری کرتے تھے۔
ان کی شہادت کی خبر کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔ غزہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہزاروں افراد نے ان کی مسکراہٹ والی آخری تصویر شیئر کی ہے، جس پر لکھا گیا:
ہمیں نہیں معلوم وہ کس منظر کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں، شاید جنت میں اپنا مقام دیکھ لیا ہو، لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (سورۃ التوبہ، آیت 120)
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش
غزہ میں جاری انسانی المیے کے بیچ، جواد موسیٰ جیسے افراد کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں زندگی بچانا بھی ایک جرم بن چکا ہے۔ اب تک اقوام متحدہ یا کسی بڑے انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اجتماعی دعا کی اپیل
شہید جواد موسیٰ کی نمازِ جنازہ منگل کے روز مغرب کے بعد مسجد التوبہ ہی میں ادا کی گئی، جہاں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مقامی ائمہ اور علما نے انہیں صدقہ جاریہ قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں شہداء کے ساتھ اٹھائے اور ان کی یہ مسکراہٹ روزِ قیامت ان کے حق میں گواہی بنے، نہ کہ ان کے خلاف۔
شہید کی میت کو کفن میں لپیٹنے کے بعد بھی وہ تدفین تک مسکراتی رہی۔ جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔ جواد چونکہ ایک خوبرو نوجوان تھے اور شہادت کے بعد چہرے پر سجی مسکراہٹ نے ان کے حسن کو مزید دوبالا کردیا۔ اس لیے مقامی سوشل میڈیا میں ان کی تصویر کو ورۃ القمر یعنی چاند کی تصویر کے عنوان سے شیئر کرکے ان پر رشک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








