معروف یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر رجب بٹ کے خلاف جاری توہینِ مذہب اور فحش مواد کے کیس میں مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ بلال حیدر نے کہاہے کہ یہ محض وائرل ویڈیوز کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کی دینی، اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر ایک کھلا حملہ ہے۔
رجب بٹ نے نہ صرف مذہبی مقامات کی توہین کی بلکہ خواتین کو بھی سستی شہرت کے لیے مذاق کا نشانہ بنایا، جو ناقابلِ معافی جرم ہے۔
انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے عدالت میں جمع کرائی گئی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رجب بٹ کے زیرِ استعمال موبائل فون سے وہ تمام ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور جن پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل میں خواتین کے ساتھ نازیبا چیٹس، ویڈیو کالز کی ریکارڈنگز اور دیگر فحش نوعیت کی فائلز بھی موجود تھیں جنہیں ڈیجیٹل ہراسانی کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
رجب بٹ کے خلاف مقدمہ دفعہ 295 (توہین مذہب)، دفعہ 509 (خواتین کی تذلیل)، اور PECA ایکٹ کی دفعہ 20 (سائبر ہراسمنٹ) کے تحت درج کیا گیا ہے۔جبکہ ایف آئی اے کو مزید فرانزک شواہد اور مکمل چالان پیش کرنے کے لیے مہلت دے دی گئی ہے۔ اگلی سماعت 29 جولائی کو متوقع ہے۔
اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد مذہبی حلقوں، خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں، اور شہری حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
ایڈووکیٹ بلال حیدر نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ وہ اس کیس کو محض سوشل میڈیا بدتمیزی نہیں بلکہ سماجی و مذہبی بگاڑ کا مقدمہ سمجھتے ہیں اور عدالت سے اپیل کریں گے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








