بابوسر ٹاپ اور چلاس کے علاقوں میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد جاری ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی ٹیموں نے چھ سالہ عبدالہادی کی لاش برآمد کر لی ہے، 14 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق، جاں بحق بچے کے اہل خانہ لودھراں سے چلاس روانہ ہو چکے ہیں تاکہ وہ عبدالہادی کی میت وصول کر سکیں۔ اسی سانحے میں جاں بحق ہونے والے فہد اسلام اور ڈاکٹر مشعل فاطمہ کی میتیں بھی آج لودھراں منتقل کی جائیں گی۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ جاری امدادی کارروائیوں کا خود جائزہ لیا جا سکے اور متاثرین کی بحالی کے اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ گلبر خان نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ آخری لاپتہ فرد کے ملنے تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے۔ انہوں نے تمام صوبائی وزراء کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں موجود رہیں اور خود نگرانی کرتے ہوئے امدادی کاموں کو یقینی بنائیں۔
حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق وزیراعلیٰ نے فوری طور پر سڑکوں کی بحالی، متاثرہ افراد کی دوبارہ آبادکاری، اور بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، بجلی اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
مزید برآں وزیراعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کنٹرول روم قائم کریں تاکہ متاثرہ عوام کو بروقت معاونت فراہم کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کو ایک بڑا انسانی المیہ قرار دیا اور یقین دہانی کروائی کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
گزشتہ روز خراب موسم اور تباہ حال سڑکوں کے باوجود حکومت نے بابوسر پاس کے قریب پھنسے تمام سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا اور انہیں چلاس منتقل کیا، جہاں مقامی ہوٹلوں کی جانب سے سیاحوں کو مفت رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
ادھر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قراقرم ہائی وے کے مختلف حصوں کو کھولنے کے لیے مکمل پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے، جو کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث بند ہو گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








