ڈی ایچ اے اسلام آباد کے علاقے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ریٹائرڈ کرنل قاضی اسحاق کی لاش جمعرات کے روز سوان ندی کے قریب سے برآمد کر لی گئی ہے تاہم ان کی بیٹی کی تلاش تاحال جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ منگل کے روز ڈی ایچ اے اسلام آباد فیز 5، سیکٹر اے میں پیش آیا تھا جہاں موسمی نالے میں اچانک آنے والے شدید پانی کے ریلے نے قاضی اسحاق اور ان کی بیٹی کو ان کی گاڑی سمیت بہا دیا تھا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب باپ بیٹی گاڑی میں سوار تھے اور اچانک پانی کا بہاؤ گاڑی کو ساتھ لے گیا۔
حادثے کے بعد ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں نے فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کر دیا جو آج تیسرے دن بھی جاری رہا تاہم پہلے دو روز کی مسلسل کوششوں کے باوجود باپ اور بیٹی کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔
جمعرات کی صبح سوان ندی کے پل کے نیچے سے متاثرہ گاڑی کے دروازے اور بونٹ ملے جس کے بعد سرچ آپریشن کو اسی مقام پر مرکوز کیا گیا۔ چند گھنٹے بعد اسی علاقے سے کرنل (ر) قاضی اسحاق کی لاش بھی برآمد کر لی گئی جس کی شناخت اہل خانہ نے کر لی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بیٹی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے، اور اس مقصد کے لیے غوطہ خور ٹیمیں، مقامی رضاکار اور جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ندی کے بہاؤ کو بھی عارضی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ تلاش میں آسانی ہو۔
ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی اچانک آئے ہوئے پانی کے شدید دباؤ میں پھنس گئی اور باپ بیٹی کو گاڑی سے نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔ ان کے ساتھ کوئی اور فرد موجود نہیں تھا۔
اس دلخراش واقعے کے بعد ملک بھر میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا صارفین سمیت دفاعی حلقے بھی قاضی اسحاق کی ناگہانی وفات پر غمزدہ ہیں۔
صارفین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے خطرناک موسمی نالوں پر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








