برطانیہ کا نظام صحت مشکل کا شکار؟ جونیئر ڈاکٹرز نے 5 روزہ ہڑتال کا اعلان کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بی بی سی)

برطانیہ میں کل سے جونیئر ڈاکٹرز کی پانچ روزہ ہڑتال شروع ہونے جا رہی ہے جوکہ صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ برٹش میڈیکل کونسل اور حکومت کے درمیان تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر بات چیت ناکام ہو گئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال کا فیصلہ کیا۔

برٹش میڈیکل کونسل کا کہنا ہے کہ جونیئر ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔ دوسری جانب، برطانیہ کے ہیلتھ سیکریٹری نے ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ہڑتال ملتوی کر کے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق، اس ہڑتال سے تقریباً 60 ہزار مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایمرجنسی سروسز اور آپریشنز بری طرح متاثر ہوں گے۔

اسپتالوں میں مریضوں کی آمدورفت اور علاج معطل ہونے کا خدشہ ہے جو عوام کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ دو سال قبل بھی جونیئر ڈاکٹرز کی ہڑتال کے نتیجے میں حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد طبی عملے کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا۔ اس وقت خودمختار جائزہ باڈی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے تربیت کے ابتدائی سال میں موجود ڈاکٹرز کے لیے 10.3 فیصد، جونیئر ڈاکٹرز کے لیے 8.8 فیصد، اور میڈیکل کنسلٹنٹس کے لیے 6 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

اب ایک بار پھر تنخواہوں کے تنازع نے سر اٹھایا ہے اور یہ ہڑتال صحت کے شعبے کے لیے نئے امتحانات لے کر آئی ہے۔ کیا حکومت اور ڈاکٹرز کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو پائے گا؟ یہ سوال ہر ایک کے ذہن میں گردش کر رہا ہے، جبکہ مریض اسپتالوں میں علاج کے انتظار میں ہیں۔

Related Posts