نئی دہلی: ایک بھارتی دفتر میں غیر ملکی مہمان کے استقبال کے لیے ملازمین کی جانب سے اجتماعی رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد نہ صرف بھارتی صارفین بلکہ دنیا بھر کے ناظرین نے اس اقدام پر تنقید کے تیر برسا دیے۔
یہ ویڈیو پہلی بار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھی جہاں چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں افراد نے اسے دیکھ لیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دفتر کے درجنوں ملازمین ایک غیر ملکی (ممکنہ طور پر امریکی یا یورپی) مہمان کی آمد پر ایک مخصوص تیلگو گانے کیلی کیلی پر منظم انداز میں رقص کرتے ہیں جب کہ ایک ملازم مشہور بھارتی فلمی گانے میں تیرا بوائے فرینڈ پر انفرادی انداز میں ڈانس کرتا ہے۔ اس دوران غیر ملکی مہمان پیچھے بیٹھ کر مسکراتے ہوئے اس منظر کا مشاہدہ کرتا ہے۔
یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی عوامی ردعمل دو واضح طبقات میں بٹ گیا۔ ایک طرف سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو شرمناک ، غلامانہ ذہنیت اور کارپوریٹ چاپلوسی قرار دیا، تو دوسری طرف کچھ نے اسے دفتر کے دوستانہ ماحول اور مہمان نوازی کی ایک مثبت جھلک سمجھا۔
ایک صارف نے شدید ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ منظر دیکھ کر افسوس ہوا۔ غیر ملکی مہمان کے سامنے اپنے ملازمین سے اس طرح رقص کروانا عزت نفس کی توہین ہے۔ کیا کسی مغربی کمپنی میں بھارتی مہمانوں کے لیے ایسا ہوتا ہے؟
دوسری جانب بعض افراد نے اس رقص کو ٹیم بلڈنگ ایکٹیویٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفتر میں کبھی کبھار اس طرح کی تقریبات تھکن کم کرنے، ٹیم ورک بڑھانے اور مہمانوں کا خوش دلی سے خیرمقدم کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
𝗔𝗯𝘀𝗼𝗹𝘂𝘁𝗲 𝘀𝗵!𝘁 𝘀𝗵𝗼𝘄 – Indian employees dancing in office to welcome an international client and client was also forced to dance.
Where is employee dignity? Where is the self-respect? pic.twitter.com/mH1UimWlRE
— Ankit Uttam (@ankituttam) July 23, 2025
اکثریت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات میں حدود کا تعین ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا مہمان کے سامنے ایسی پیشکش ضروری تھی؟ اور کیا یہ کسی دباؤ یا کمپنی پالیسی کے تحت تو نہیں کیا گیا؟
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ویڈیو کا تعلق ممکنہ طور پر کسی آئی ٹی یا کارپوریٹ کمپنی سے ہے تاہم اب تک اس دفتر یا کمپنی کی شناخت سامنے نہیں آئی۔
مقامی صحافیوں کے مطابق، اس ویڈیو نے بھارت میں دفاتر کے اندر کارپوریٹ ثقافت اور غیر ملکیوں کے سامنے پیش آنے کے انداز پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی اداروں نے غیر ملکی مہمانوں کی آمد پر کچھ غیر روایتی انداز اپنایا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف ریاستی ادارے اور نجی کمپنیوں کی جانب سے گوروں کو متاثر کرنے کے لیے اس نوعیت کی حرکتیں سامنے آتی رہی ہیں جن پر ہمیشہ عوامی سطح پر تنقید ہوتی رہی ہے۔
یہ ویڈیو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جنوبی ایشیائی معاشروں، خصوصاً بھارت میں، اب بھی غیر ملکیوں کے سامنے غیر ضروری مرعوبیت کا رویہ پایا جاتا ہے جو قومی خودداری اور دفتر کے پیشہ ورانہ معیار پر سوالیہ نشان بنتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








