ان خوبصورت جزائر کی شہریت کے ساتھ 150 ممالک میں ویزا فری انٹری، پاسپورٹ لینے کا طریقہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Citizenship offered in exchange for home purchase in Caribbean islands
FILE PHOTO

براعظم امریکا میں مشرقی کیریبین کے خوبصورت جزائر آج دنیا بھر کے مالدار افراد کے لیے ایک پُرکشش شہریت اسکیم کی علامت بن چکے ہیں۔

امریکا، کینیڈا، چین، ترکی اور نائجیریا جیسے ممالک کے شہری اب نہ صرف ان جزائر میں گھر خرید رہے ہیں بلکہ ان کے بدلے پاسپورٹ بھی حاصل کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں ویزہ فری سفر کر سکتے ہیں، جن میں یورپ کے شینگین ممالک اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

اینٹیگوا و باربوڈا، ڈومینیکا، گریناڈا، سینٹ کٹس اور سینٹ لوشیا یہ پانچ جزائر ایسے ہیں جو کم از کم دو لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے بدلے شہریت فراہم کر رہے ہیں۔

اس کے لیے مخصوص گھروں کی خریداری، یا نیشنل ڈویلپمنٹ فنڈ میں چندہ دینا شامل ہے۔ بعض خریدار یہاں باقاعدہ رہائش اختیار کرتے ہیں جبکہ اکثریت صرف پاسپورٹ اور سرمایہ کاری کے فوائد سے استفادہ کرتی ہے۔

امریکی شہریوں کی دلچسپی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان اسکیموں میں دلچسپی رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد امریکی شہریوں کی ہے جو ملک میں سیاسی پولرائزیشن، نسلی تعصب اور پرتشدد واقعات سے پریشان ہیں۔ شہریت کے حصول کو وہ ایک ’انشورنس پالیسی‘ سمجھتے ہیں ایک ایسا بیک اپ پلان جو بوقتِ ضرورت کام آ سکے۔

کاروباری فوائد اور ٹیکس چھوٹ
یہ جزائر مالدار افراد کے لیے اس وجہ سے بھی پُرکشش ہیں کہ یہاں متعدد ٹیکسز جیسے وراثتی، دولت اور کیپٹل گین ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بہت سے کاروباری افراد ایسے پاسپورٹ چاہتے ہیں جن کا استعمال عالمی سطح پر سیاسی مسائل پیدا نہ کرے۔

عوامی رائے اور داخلی مخالفت
اگرچہ ان پروگرامز سے معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے مگر ان پر مقامی عوام کی ملی جلی رائے ہے۔ مثال کے طور پر اینٹیگوا میں جب یہ سکیم 2012 میں متعارف ہوئی تو قوم پرستی کے جذبے کے تحت مظاہرے بھی ہوئے۔

پارلیمنٹ کی سابق اسپیکر جزال آئزک کے مطابق لوگوں کو یوں لگا جیسے وہ اپنی شناخت فروخت کر رہے ہوں۔

عالمی برادری کی تشویش
یورپی یونین اور امریکہ جیسے طاقتور ممالک نے ان اسکیموں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان پروگرامز میں شفافیت اور سیکورٹی کو یقینی نہ بنایا گیا تو ویزہ فری سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی جرائم میں ملوث افراد ان سکیموں سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ریگولیٹری اقدامات
عالمی دباؤ کے پیش نظر پانچوں کیریبین ممالک نے ایک مشترکہ ریگولیٹری باڈی قائم کی ہے جو ان اسکیموں کی نگرانی کر رہی ہے۔ سینٹ لوشیا اور ڈومینیکا کے وزرائے اعظم نے اپنے پروگرامز کو شفاف اور قانونی قرار دیا ہے۔

سینٹ کٹس کے مقامی صحافی آندرے ہوئی کے مطابق عوام ان اسکیموں کو معیشت کے لیے مثبت سمجھتے ہیں اور اس سے حاصل آمدن کے حکومتی استعمال کو سراہتے ہیں۔

Related Posts