لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب ایک کشتی سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار ہو گئی، جس میں سوار تارکینِ وطن میں سے 18 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 50 سے زائد لاپتہ ہیں۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ رواں ہفتے کے اختتام پر پیش آیا جس کی تصدیق اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی مہاجرت (IOM) نے کی ہے۔
ریسکیو اہلکاوں نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک 10 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے لیکن درجنوں دیگر افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حادثے کا مقام طبرق ہے جو مصر کی سرحد کے قریب ایک اہم ساحلی شہر ہے اور یورپ جانے والے مہاجرین کے لیے ایک مرکزی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی مہاجرت (IOM) نے بیان میں کہا کہ یہ حادثہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے لوگ کیسے خطرناک اور غیر یقینی راستوں پر مجبور ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک مسلسل سیاسی بحران اور خانہ جنگی کا شکار ہے اور انسانی اسمگلنگ وہاں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لیبیا کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے حادثے کے بعد کم از کم 60 تارکین وطن کے جاں بحق ہوگئے تھے۔ پہلی کشتی 12 جون کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ڈوبی جس میں 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








