کراچی کے علاقے کلفٹن چائنا پورٹ کے قریب قتل ہونیوالے ساجد نے 20 جولائی کو اسلام قبول کیا اور اسی روز عدالت میں ثناء سے نکاح کیا۔ پولیس نے نکاح نامہ اور قبولِ اسلام کی تصدیق کر دی ہے۔
نکاح نامہ اور قبولِ اسلام کی سند پولیس نے ساجد کے والد سے حاصل کر لی ہے جو اس واقعے کے بعد کراچی پہنچے اور بوٹ بیسن تھانے کے باہر زار و قطار روتے دکھائی دیے۔ نکاح نامے کے مطابق ساجد کی عمر 28 برس اور ثناء کی عمر 25 برس تھی۔
ذرائع کے مطابق ساجد اور ثناء نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور شادی کے بعد گوجرانوالہ کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ مختلف علاقوں میں رہائش پذیر رہے۔
ساجد کے والد نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جوڑے کے فرار کے بعد ثناء کے اہل خانہ نے ان کا گھر نذر آتش کر دیا جس کے باعث وہ 14 جولائی کو گوجرانوالہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

کراچی پولیس نے اس دوہرے قتل کی تفتیش کے دوران اہم پیش رفت کی ہے اور گوجرانوالہ سے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں مقتولہ کا بھائی بھی شامل ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق جوڑے کو نہایت بے دردی سے نشانہ بنایا گیا اور دونوں کو سر کے پچھلے حصے میں گولیاں ماری گئیں۔
جائے واردات سے ایک موبائل فون برآمد ہوا ہے جس میں کوئی سم کارڈ موجود نہیں تھاجبکہ دو مختلف اقسام کی گولیوں کے خول بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات میں کم از کم دو افراد ملوث تھے۔
پولیس کا ابتدائی شبہ ہے کہ یہ قتل مبینہ طور پر غیرت کے نام پر کیا گیا ہے کیونکہ جوڑا اپنی مرضی سے شادی کر کے کراچی منتقل ہوا تھا۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مقتولین کے دیگر رشتہ داروں اور ملزمان کے روابط کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ معاشرتی اقدار، بین المذاہب تعلقات، اور غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے تناظر میں سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ پولیس تفتیش مکمل ہونے کے بعد اس المناک سانحے کے پس پردہ تمام محرکات منظر عام پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








