پاکستانی ڈرامہ ’شیر‘ کی اکیسویں قسط نے ناظرین کو ایسے دھچکے دیے ہیں کہ جذبات قابو میں رکھنا مشکل ہو گیاہے، اس قسط میں وہ سب کچھ ہوا جس کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔
اسپتال، جہاں شیر زمان کو پابند رکھا گیا تھا، وہیں سے اس کا فرار ایک منظم اور خطرناک سازش کا نتیجہ نکلا، فرار کی ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں بلکہ اُس کی معالج ڈاکٹر فجر نکلی۔
کہانی اس وقت ایک نیا موڑ لیتی ہے جب شرافت اور ذمہ داری کی علامت سمجھی جانے والی ڈاکٹر فجر، رات کی تاریکی میں نہ صرف سیکورٹی کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے بلکہ شیر زمان کو پچھلے دروازے سے فرار کرواتی ہے۔
اندرونِ اسائلَم جہاں ہر کونے پر کیمرے نصب تھے، وہ بار بار بند ہونے لگتے ہیں، ڈاکٹرز اور سیکورٹی اہلکار شک میں پڑ جاتے ہیں مگر کسی کو یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ یہ سب ایک منصوبہ بند چال کا حصہ ہے۔
ڈرامے کے ڈائریکٹر احسن طالب اور رائٹر زنجبیل عاصم نے اس قسط میں ناظرین کو نہ صرف سسپنس میں مبتلا کیا بلکہ کرداروں کی نفسیاتی گہرائی بھی بخوبی دکھائی۔
دوسری طرف اسائلَم کا عملہ خاص طور پر ڈاکٹر رنگون والا اور بدر زمان خود کو بچانے کی کوششوں میں ایک دوسرے پر الزام تھوپتے دکھائی دیتے ہیں۔
شیر کے فرار کے فوراً بعد ڈاکٹر فجر کا استعفیٰ آ جانا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے اور شک کی سوئی پوری طرح اُسی پر رک جاتی ہے۔
شیر زمان کے گھر والے خاص طور پر اس کی والدہ غصے میں اسائلَم کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دیتی ہیں۔
یہ منظر نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ ہماری اس معاشرتی حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ طاقتور خاندانوں میں جب محبت دشمنی سے ٹکرا جائے تو انجام صرف تباہی ہوتا ہے۔
سب سے جاندار مکالمہ اس وقت آیا جب شیر جو ساری دنیا کے لیے ایک بے رحم، بااثر کردار تھا، ڈاکٹر فجر کے سامنے پگھلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
شیر سب کے لیے شیر ہے، بس تمہارے سامنے سرنڈر کر گیا ہے، یہ جملہ نہ صرف کردار کے باطن کو کھولتا ہے بلکہ فجر کے اقدام کو بھی ایک جذباتی جواز فراہم کرتا ہے۔ محبت، وفاداری اور بغاوت کا ایسا امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
شیر کی اکیسویں قسط ایک مکمل جذباتی طوفان تھی۔ شیر زمان اب آزاد ہے مگر زخم خوردہ اور دشمنوں کے نشانے پر ہے۔ آنے والی اقساط میں مزید سنسنی متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








