در شہوار کی نئی چال، ننھی دعا کے مستقبل کا سوال! ڈرامہ دو کنارے کی 42 ویں قسط نے مداحوں کو شش و پنج میں ڈال دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Do Kinaray Episode 42
YOUTUBE

گرین ٹی وی کے معروف ڈرامہ ’’دو کنارے‘‘ کی قسط نمبر 42 نے ناظرین کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے، اس قسط میں دعا کی کسٹڈی پر جاری خاندانی کشمکش نے کہانی کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، ولید اور درِ شہوار کے مرکزی کرداروں کے درمیان جاری قانونی اور ذاتی جنگ نے رشتوں کو مزید الجھا دیا ہے۔

ولید، جو اپنی بیٹی دعا سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اپنی سابقہ بیوی درِ شہوار کو دعا کی حوالگی سے انکاری ہے۔ اگرچہ درِ شہوار نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن ولید اپنی اصول پسندی کے تحت دعا کو ایک ایسی ماں کے حوالے کرنے سے ہچکچا رہا ہے جو ماضی میں نفرت اور دھوکہ دہی کی علامت رہی ہے۔

دوسری جانب درِ شہوار نے اپنی تنہائی، دکھ اور ازدواجی ناکامیوں کو بنیاد بنا کر یہ موقف اپنایا ہے کہ دعا صرف اس کی ممتا ہی نہیں بلکہ اس کی تنہائی کا آخری سہارا ہے۔

اس نے روتے ہوئے اپنی والدہ کو بتایا کہ شادی کے بعد اسے پتا چلا کہ اس کا دوسرا شوہر شہیر پہلے ہی شادی شدہ تھا اور اب وہ اسے بھی چھوڑنا چاہتا ہے۔ درِ شہوار نے الزام لگایا کہ وہ محض ایک وقتی سہارا تھی اور اب اسے گھر سے بھی نکالنے کی سازش ہو رہی ہے۔

 

کہانی میں ایک اور موڑ اُس وقت آیا جب درِ شہوار نے غصے میں ولید کے گھر جا کر زبردستی دعا سے ملاقات کی اور تنقید کی کہ وہ لڑکی کو ماں سے دور رکھ کر اسے ذہنی اذیت دے رہے ہیں۔ درِ شہوار کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ سماعت پر دعا کو اپنے ساتھ لے جانے کا مکمل ارادہ رکھتی ہے۔

دوسری طرف ولید کی نئی بیوی جو دعا کی سوتیلی ماں ہے، خود کو درِ شہوار کی سازشوں کا نشانہ محسوس کر رہی ہے۔ تیمور اور آئمہ کی شادی بھی درِ شہوار کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسٹڈی کیس صرف ماں باپ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خاندان کے وقار اور تعلقات کو متاثر کر رہا ہے۔

درِ شہوار نے اپنی ماں کے سامنے الزام لگایا کہ ولید نے اسے صرف اس لیے طلاق دی کہ وہ اس کی جائیداد کو بہانہ بنا کر سوتیلے بہن بھائیوں کو راضی کرنا چاہتا تھا جبکہ حقیقت میں وہ سب کچھ دوسری شادی کے لیے بچانا چاہتا ہے۔

دوسری طرف ولید کے گھر والے اسے ایک موقع پر غصے میں یہ یقین دلاتے نظر آئے کہ درِ شہوار کچھ بھی کر لے، دعا اُس کا مقدر نہیں بنے گی۔

اب تمام تر نگاہیں عدالت کی پہلی سماعت پر جمی ہوئی ہیں، جہاں اس جذباتی جنگ کا قانونی فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔

Related Posts