کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں جنازے کے دوران فائرنگ سے سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت کرلی گئی ہے جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی میں منظرعام آگئی جس میں ملزم کو مسجد کے اندر شمس السلام پر فائرنگ کرتے ہوئے واضح دیکھا جاسکتا ہے۔
سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام ڈی ایچ اے فیز سکس میں ایک جنازے میں شرکت کے لیے بیٹے کے ہمراہ آئے تھے کہ قمیض شلوار میں ملبوس مسلح ملزم نے ان پر مسجد کے اندر فائرنگ کردی۔
نجی چینل آج نیوز کے مطابق خواجہ شمس الاسلام کو دل میں جبکہ ان کے بیٹے کو پیٹ میں گولی لگی، سینئر وکیل اور ان کے بیٹے کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم خواجہ شمس الاسلام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا ملزم مسجد کے باہر موجود تھا اور فائرنگ کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہوگیا جبکہ فرار ہوتے ہوئے ملزم نے کہا کہ ”میں نے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا۔“
پولیس نے وقوعہ پر موجود افراد کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور واقعے کو ذاتی رنجش کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق نومبر 2024 میں بھی خواجہ شمس الاسلام پر حملہ ہوا تھا جس کے دوران ان کے ہاتھ پر گولی لگی تھی اور ان کے خلاف مخالفین نے مقدمہ بھی درج کرا رکھا ہے۔ شمس الاسلام اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں سینئر وکیل خواجہ شمس السلام پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص فائرنگ کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔
سی سی ٹی وی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد میں فائرنگ کرنے والے ملزم نے چہرے پر ماسک لگا رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ تاہم فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت عمران خان ولد نبی گل کے نام سے کرلی گئی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت عمران خان ولد نبی گل کے نام سے کرلی گئی ہے، حملہ آور نے شلوار قمیض اور واس کوٹ پہن رکھی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








