پاکستان کے نامور گلوکار فخرِعالم نے انکشاف کیا ہے کہ صادق آباد میں فصلوں پر ٹڈی دل حملے روکنے کے لیے آنے والا بوسیدہ طیارہ جو گر کر تباہ ہوگیا، وہ 1958ء میں بنایا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز اپنے پیغام میں گلوکار فخرِ عالم نے کہا کہ فصلوں کو تباہی سے بچانے والا بیور ڈی ایچ سی 2 طیارہ مہلک انداز میں تباہی سے دوچار ہوا کیونکہ یہ ایک پرانا طیارہ تھا۔
پیغام میں گلوکار فخرِ عالم نے کہا کہ طیارہ درحقیقت بہت بوسیدہ تھا جسے 1958ء میں بنایا گیا۔ ایسی تباہی اُس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب آپ کی سول ایوی ایشن پالیسیاں فرسودہ ہوں۔
گلوکار فخرِ عالم نے کہا کہ فرسودہ سول ایوی ایشن پالیسیاں لوگوں کو نئے جہاز درآمد کرنے سے روکتی ہیں جس کے نتیجے میں اچھے پائلٹ اِس طرح کے پرانے جہازوں کو اُڑانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
Today this crop duster Beaver DHC2 has a fatal crash.This is a really old airplane. 1958 year of manufacture. This is the result when you have poor Civil Aviation Policies that discourage people from importing new airplanes & forcing good pilots to fly these old birds. #pakistan pic.twitter.com/Fs6eMkXG9J
— Fakhr-e-Alam S.I & S.E (@falamb3) January 12, 2020
یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے شہر صادق آباد میں اسپرے کے لیے آنے والا طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے کے پائلٹ سمیت 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ٹڈی دل حملوں سے بچاؤ کے لیے گزشتہ روز وفاق سے پنجاب حکومت کی مدد کے لیے آنے والا طیارہ صادق آباد کے چک 215 میں گر کر تباہ ہوا۔
ترجمان سول ایوسی ایشن اتھارٹی کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے اڑان بھرنے والا طیارہ فنی خرابی کے باعث صادق آباد کے علاقے باندھی میں گرا جس سے 1 پائلٹ اور پلانٹ پروٹیکشن انجینئر جاں بحق ہو گئے۔
مزید پڑھیں: صادق آباد میں طیارہ گر کر تباہ، 2 افراد جاں بحق
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








