بیرونی زرِ مبادلہ (فاریکس) کی شرحیں عالمی و مقامی معیشت کی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں ان شرحوں میں آنے والی تبدیلیاں براہِ راست مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معیشت کے استحکام پر اثر ڈالتی ہیں۔
روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوتے ہیں بلکہ بیرون ملک سفر کرنے والوں، ترسیلاتِ زر وصول کرنے والوں، اور درآمد و برآمد سے وابستہ افراد کے لیے مالی فیصلے بھی مشکل ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی ریٹس پر مسلسل نظر رکھنا اب صرف مالیاتی اداروں کا کام نہیں بلکہ عام شہریوں کی ضرورت بھی بنتا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور مقامی مالیاتی دباؤ کے باعث پاکستان میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں معمولی رد و بدل دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی ڈالر کی قیمت خرید 284 روپے 80 پیسے جبکہ قیمت فروخت 285 روپے 30 پیسے ریکارڈ کی گئی ہے۔
برطانوی پاؤنڈ کی قیمت خرید 375 روپے 10 پیسے اور فروخت 376 روپے 60 پیسے رہی۔ یورو کی قیمت میں بھی استحکام دیکھا گیا، جو خریداری پر 324 روپے 35 پیسے اور فروخت پر 325 روپے 80 پیسے پر موجود ہے۔
سعودی ریال 75 روپے 80 پیسے میں خریدا جا رہا ہے جبکہ 76 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اماراتی درہم کی قیمت خرید 77 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 77 روپے 70 پیسے رہی۔
کینیڈین ڈالر 204 روپے میں خریدا جا رہا ہے جبکہ اس کی فروخت 209 روپے پر ہو رہی ہے۔ آسٹریلین ڈالر کی قیمت خرید 182 روپے اور فروخت 187 روپے ہے۔ چینی یوان 39 روپے 3 پیسے میں خریدا جا رہا ہے جبکہ 39 روپے 43 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔
کویتی دینار کی قیمت خرید 919 روپے 95 پیسے اور فروخت 931 روپے 95 پیسے ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی روپیہ 3 روپے 14 پیسے میں خریدا جا رہا ہے جبکہ اس کی فروخت 3 روپے 23 پیسے پر جاری ہے۔
دیگر کرنسیوں میں قطری ریال، اومانی ریال، سنگاپور ڈالر، جاپانی ین اور تھائی بھات کی قیمتوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








