کہتے ہیں موت کے ہزار چہرے ہوتے ہیں۔ اس کا ہر رنگ و روپ اور ہر شکل و صورت تکلیف دہ اور ہولناک ہوتی ہے، لیکن جب کوئی انسان بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے تو یہ موت ایک الگ ہی المناک منظر پیش کرتی ہے۔ بھوک کی موت خاموش، سست اور اندر سے جسم کو کھا جانے والی ایسی اذیت ہے، جس کا کوئی فوری تدارک نہیں اور نہ ہی اس کے زخم آسانی سے بھر سکتے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں غزہ میں جاری قحط کے حوالے سے اپنی ایک خصوصی اشاعت میں ماہرین صحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ انسان کے جسم کو توانائی سب سے پہلے کاربوہائیڈریٹس سے ملتی ہے، جو گلوکوز میں بدل کر جسم کو حرکت میں رکھتے ہیں۔ لیکن جب خوراک مسلسل نہ ملے تو جسم پہلے اپنی چربی جلانا شروع کرتا ہے اور جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، پٹھے بھی گلنے لگتے ہیں۔ آخرکار دل، جگر، گردے اور دماغ جیسے اہم اعضاء ایک ایک کر کے جواب دینے لگتے ہیں۔
بھوک کے شکار بچوں پر یہ عمل کہیں زیادہ تیز ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے جسم میں توانائی کا ذخیرہ کم ہوتا ہے اور ضرورت زیادہ۔ جس کے نتیجے میں ان کے عضلات سکڑنے لگتے ہیں، جسم کا درجہ حرارت قابو سے باہر ہو جاتا ہے، جلد کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اور مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مدافعتی نظام اس قدر کمزور ہو جاتا ہے کہ عام سی بیماریاں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
سب سے پہلا نظام جو بھوک سے متاثر ہوتا ہے وہ نظامِ انہضام ہے۔ معدے کے رس کم ہونے لگتے ہیں، معدہ سکڑنے لگتا ہے اور انسان کی بھوک مر جاتی ہے۔ اگر اچانک کھانا مل بھی جائے تو یہ معدہ فوراً اسے قبول نہیں کر سکتا اور اس کے لیے باقاعدہ طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
دل کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے، بلڈ پریشر نیچے گر جاتا ہے اور بالآخر دل کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ نظام تنفس بھی اسی اذیت سے گزرتا ہے۔ سانس لینے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور پھیپھڑے آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ ہو تو انسان کا پورا جسم ایک ایک کر کے خاموش ہو جاتا ہے بغیر کسی شور کے، بغیر کسی گولی یا بم کے۔
بھوک دماغ کو بھی نہیں چھوڑتی۔ توانائی کی شدید کمی کے باعث دماغ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور بچوں میں یہ عمل ان کی ذہنی نشوونما کو مستقل نقصان پہنچاتا ہے۔
اس وقت غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے مطابق بیس لاکھ میں سے کم از کم دس لاکھ لوگ اسی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں اور آہستہ آہستہ وہ موت کے اس بھیانک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی زندگی صرف ایک پلیٹ کھانے کی دوری پر لٹکی ہوئی ہے اور وہ پلیٹ بھی اسرائیلی محاصرے کے باعث ان تک نہیں پہنچ پاتی۔
اقوام متحدہ، عالمی ادارہ خوراک اور دیگر تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق غزہ کے بارڈر پر تقریباً 6,000 امدادی ٹرک خوراک، دوائیوں اور ضروری سامان کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اسرائیل ان ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ فضائی امداد کی کوششیں اگرچہ جاری ہیں، لیکن ایک طیارہ جو امداد گراتا ہے وہ بھی ایک عام ٹرک کے مقابلے میں کئی گنا کم سامان لا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، فضائی امداد کے انتظار میں جمع لوگوں پر کئی بار فضائی حملے یا حادثات ہو چکے ہیں، جس سے امداد لینے والے خود خطرے کی زد میں آ گئے۔ اس طرح امداد بھی ہتھیار بن کر سامنے آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھوک ایک سست، خاموش اور مسلسل چلنے والی نسل کشی ہے۔ یہ اس وقت بھی جاری رہتی ہے جب گولیاں رک جائیں، جب جنگ تھم جائے، جب میڈیا کی توجہ ہٹ جائے۔ بھوک جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور انسان بغیر کسی آواز کے ختم ہو جاتا ہے۔
عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ، سب جانتے ہیں کہ غزہ میں خوراک کی کمی نہیں، صرف اسرائیلی اجازت کا مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ریاست کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ لاکھوں انسانوں کو دانستہ بھوک سے مارے؟ غزہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکا ہے، جہاں انسان گولیوں اور بموں کے ساتھ ساتھ صرف اس لیے بھی مر رہے ہیں کہ ان تک ایک وقت کی روٹی نہیں پہنچنے دی جا رہی۔ اگر عالمی ضمیر اس پر بھی خاموش ہے، تو یہ تاریخ کا سب سے سیاہ باب ثابت ہوگا۔ بھوک کی یہ موت گولیوں سے زیادہ تکلیف دہ اور محاصرے سے زیادہ پُرزور صدائیں رکھتی ہے۔ یہ محض فاقہ نہیں، یہ ایک اجتماعی پھانسی ہے۔ (بحوالہ الجزیرۃ)
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








