پرینکا گاندھی کی مودی اور نتن یاہو پر کڑی تنقید؛ فلسطین میں نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے منگل کے روز بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر فلسطین کے عوام پر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی تباہی پر خاموش رہنے پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ خاموشی اور غیر عملی رویہ اپنے آپ میں ایک جرم ہے جو اسرائیل کے جرائم کو تقویت دیتا ہے۔ ان کے اس سوشل میڈیا پوسٹ پر اسرائیل کے سفیر ریووین آزار نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ پرینکا گاندھی کو حماس کے اعداد و شمار پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔

پرینکا گاندھی نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ اسرائیلی ریاست فلسطین میں نسل کشی کر رہی ہے اور اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکی ہے جن میں 18,430 بچے شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے سینکڑوں افراد کو بھوک سے مار دیا جن میں متعدد بچے شامل ہیں اور اب لاکھوں افراد کو بھوک کے خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان جرائم کو خاموشی اور غیر فعالیت کے ذریعے ممکن بنانا خود ایک جرم ہے۔

اسرائیلی سفیر ریووین آزار نے پرینکا کے پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شرمناک بات آپ کا فریب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے 25,000 حماس دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے اور انسانی جانوں کا خوفناک نقصان حماس کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ وہ شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس نے فلسطین کے معاملے پر محتاط رویہ اپنایا ہے کیونکہ بی جے پی اسے اپنے سیاسی ایجنڈے کے طور پر پیش کرتی ہے تاہم پرینکا گاندھی نے ہمیشہ کھل کر فلسطین پر اسرائیلی حملوں کو وحشیانہ اور نسل کشی قرار دیا ہے اور اسرائیل پر جنگ بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال جون میں پرینکا گاندھی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی شدید مذمت کی تھی اور ان کے اقدامات کو نسل کشی اور وحشیانہ قرار دیا تھا۔

Related Posts