کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے رمضان آباد گارڈن ویسٹ میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے اور فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔
جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں درخواست کی سماعت کے دوران معزز جج نے کہا کہ ایس بی سی اے کے افسران صرف ٹیبل کے نیچے پیسے کمانے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس محکمے کو حکومت کا بدنام ترین ادارہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افسران کے لیے جہنم میں خاص جگہ ہوگی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ 2000 میں تعمیر ہونے والی متنازعہ عمارت کے حوالے سے اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے؟ اس پر ایس بی سی اے کے نمائندے نے جواب دیا کہ یہ معاملہ حال ہی میں ان کے علم میں آیا ہے اور عدالت کے حکم کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے سوال اٹھایا کہ اپنے فرائض انجام دینے کے لیے عدالت کی مداخلت کیوں ضروری ہے؟ عدالت نے حکم دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور 16 ستمبر تک عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








