پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں 229 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،جاں بحق ہونے والوں میں 184 مرد، 14 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 17 مرد، 3 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع بونیر میں رپورٹ ہوئیں جہاں 91 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ شانگلہ میں 35، مانسہرہ میں 23، باجوڑ میں 21، سوات میں 20، بٹگرام میں 15 اور لوئر دیر میں 5 اموات رپورٹ ہوئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 68 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 21 جزوی طور پر تباہ اور 7 مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں۔
متاثرہ اضلاع میں سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں جبکہ بٹگرام اور باجوڑ کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت دی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہ رہے۔
وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر راشن اور ادویات ٹرکوں کے ذریعے پہنچانے کی ہدایت بھی دی۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کے ہمراہ رضا کار بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے جس کے باعث مزید علاقوں میں سیلابی خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
سوات کے مختلف علاقوں بشمول مینگورہ، ملم جبہ، حاجی بابا، خوازہ خیلہ اور مرغزار میں نشیبی بستیاں زیرِ آب آگئی ہیں، جہاں سیکڑوں مکانات ڈوب گئے اور کئی علاقے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے ہیں۔
متعدد خاندان، خصوصاً خواتین اور بچے، گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ کئی مقامات پر لوگ خود اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بجلی کڑکنے اور اچانک بارش کے بعد مانسہرہ میں بھی شدید نقصان ہوا ہے اور مزید جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
متاثرین نے حکومت سے فوری طور پر ریسکیو اور رہائش کے انتظامات تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








