صحافی خاور حسین کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی جو 7 روز میں محکمہ داخلہ سندھ کو رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان کریں گے جبکہ ارکان میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ شامل ہوں گے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے تحقیقاتی کمیٹی پر اسرار موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد 7 روز میں اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کو دے گی، وزیرداخلہ نے بتایا کہ کمیٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن مقدمے کے اندراج کے بعد کیا جائےگا۔
اس سے پہلے پولیس نےکہا تھاکہ اب تک کے شواہد اور تحقیقات کے مطابق خاور حسین کی موت خودکشی ہی نظر آرہی ہے، بظاہر یہی لگتا ہےکہ خاور حسین نے اپنے ہی پستول سے خود کو گولی ماری، سر میں لگی گولی ان کے اپنی لائسنس یافتہ پستول کی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق فنگر پرنٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد حاصل کر لیے ہیں، سی سی ٹی وی میں خاور ریسٹورنٹ میں جاتے، آتے اور گاڑی میں بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔
پولیس حکام کا بتانا ہے کہ مرنے سے قبل خاور حسین 2 بار ریسٹورنٹ میں آئے اور گئے، 2 عینی شاہدین نے خاور حسین کو گاڑی سے ریسٹورنٹ میں آتے جاتے دیکھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے صحافی خاور حسین کے موبائل فون کی فارنزک کروائی جا رہی ہے، سول سرجن کا بھی یہی کہنا ہے کہ شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
یاد رہےکہ کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی خاور حسین کی لاش ایک روز قبل سانگھڑ میں حیدرآباد روڈ سے ملی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








